It is not necessary that we represent all the data uploaded on our website. We just share what we find around us.

United against the Terrorims against Muslims in Burma.

Where are Muslims? Where is UN? Where is our Media?

پال ٹالک کے اشتہارات کو ختم کریں

موجودہ دور میں پال ٹالک کو دین کی اشاعت کے لئے بہت استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس پر دیے گئے نازیبا اشتہارات کو ختم کریں۔

انٹرنیٹ پر اردو رسم الخط میں تعلیم کے فروغ میں کوشاں

Friday, May 3, 2013

سچا راستہ

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

آج اس کا شہر جہاں اس نے بچپن گزارا، جوانی گزاری ، دشمن کے قبضے میں آ چکا تھا۔ اگر وہ بھی شہر سے فرار نہ ہوتا تو آج یقیناً قتل کر دیا جاتا چنانچہ اس نے بھاگنے  میں ہی عافیت سمجھی۔ اس کا ذہن ماضی کی طرف چلا گیا جہاں اس کے باپ کی تربیت کی وجہ سے اس کے دل میں اپنے دشمن کے لیے کوٹ کوٹ کر نفرت بھری تھی۔ اور پھر اس کی آنکھوں کے سامنے وہ منظر بھی گھوم گیا جب اس کا باپ بے بسی کے عالم میں  ایک جنگ میں مارا گیا۔ حیران کن بات یہ تھی کہ اس کو قتل کرنے والے جوان شہسوار نہیں تھے بلکہ وہ بہت ہی چھوٹی عمر کے دو بچے تھے جو دشمن کی فوج میں تھے اور پھر اس کی آنکھوں کے سامنے ان بچوں نے بجلی کی طرح حملہ آور ہو کر اس کے باپ کو قتل کر دیا۔ اس جنگ میں شکست کھانے کے بعد واپسی پر وہ اپنے باپ کی لاش کو بھی میدان میں چھوڑنا پڑا۔ اس واقعہ کے بعد ہر وقت انتقام کی آگ اس کے سینے میں بھڑکتی رہی حتیٰ کہ آخر ایک دن اس نے اپنے سردار کو بزدلی کا طعنہ دیتے ہوئے کہا کہ آخر کیا بات ہے کہ ہم لشکر لے کر کیوں نہیں نکلتے۔

سردار نے پوچھا کہ یہ بتائو تم لشکر تیار کرنےکے لیے کیا  دو گے؟

وہ جس کے دل میں ایک سوچ پروان چڑھ رہی تھی کہ باپ کا انتقام۔۔۔اپنا سارا تجارت کا مال دے دیا۔ چنانچہ لشکر تیار ہوا، پھر دوبارہ فوجیں آمنے سامنے ہوئیں لیکن اس دفعہ دشمن کے ایک دستے کی وجہ سے  وہ ان کے لشکر کو نقصان پہنچانے میں کامیاب ہو گئے ۔ یہ علیحدہ بات تھی کہ اس کے باوجود اس کے دل میں انتقام کی آگ ٹھنڈی نہ ہو سکی اور آج۔۔۔۔۔۔دشمن نے حیران کن کامیابی حاصل کر لی تھی اور اسے سوائے فرار ہونے کے کوئی اور رستہ  دکھائی نہ دیا۔ اسے پیچھے سے کچھ خبر نہیں تھی کہ اس کی بیوی کے ساتھ کیا بیتی۔۔۔۔۔؟ اسے تو یہ بھی پتا نہ چلا کہ دشمن نے اگرچہ عام معافی کا اعلان کر دیا تھا  کہ جس کے بارے میں کہا گیا تھا  کہ ان لوگوں کو ہر صورت میں قتل کر دیا جائے۔

وہ مختلف سوچوں کے ساتھ چلتا چلتا سمندر کے کنارے پہنچ گیا ۔ وہ اپنی منزل کے بارے میں کچھ نہیں جانتا تھا کہ۔۔۔۔کشتی میں بیٹھتے ہی اس نے اپنے معبودوں لات و منات کو پکارا اور کشتی چل پڑی۔۔۔۔ ابھی تھوڑا رستہ ہی طے کیا تھا  کہ طوفان نے آ گھیرا اور کشتی بھنور میں پھنسنے لگی۔۔۔۔ ہر طرف سے چیخ و پکار شروع ہوئی  تو اس نے بھی جلدی جلدی اپنے رب لات و منات اور عزیٰ کو پکارنا شروع کر دیا۔۔۔۔لیکن ملاح نے فوراً کہا ۔۔۔۔اے پردیسی! کیا تم نہیں جانتے کہ ایسی حالت میں یہ رب کچھ نہیں کر سکتے۔

تو پھر اور کون سا رب ہے جو طوفان میں ہماری فریاد سنے گا۔۔۔۔ اس نے حیران ہو کر ملاح سے پوچھا۔

وہی جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا رب ہے۔ ملاح نے جواب دیا۔

یہ سن کر اس نے دل ہی دل میں سوچا کہ اسی کی وجہ سے تو وہ بھاگ کر آیا۔ یہی وہ وقت تھا جب روشنی اس کے دل میں پیدا ہوئی۔ اس نے واپس آنے کا فیصلہ کر لیا۔

جونہی واپس پہنچا اسی اثناء میں اس کی بیوی بھی اس کو مل گئی۔ جس نے آتے ہی خوشخبر ی سنائی۔

عکرمہ!اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں  معاف کر دیا ہے اور میں سچے دین اسلام کو قبول کر چکی ہوں۔

کیا میری پچھلی تمام غلطیاں معاف ہو چکی ہیں؟ میں تو اسلام کو مٹانے کے لیے ہر طرح کا حربہ آزماتا رہا  اور اپنے دشمن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نقصان پہنچانے کے لیے لشکر تیار کرتا رہا کیا وہ سارا کچھ معاف ہو گیا؟

یقیناً یہی نہیں بلکہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں پناہ بھی دے دی ہے۔ اب اس کے دل میں ایک نور پیدا ہو چکا تھا  اور اس اطلاع نے اس کے ارادوں کو اور زیادہ مظبوط کر دیا۔ اس نے فوراً کہا  کہ چلو مجھے فوراً اس رحمدل  نبی کے پاس لے چلو۔

بیوی اپنے خاوند کے ہمراہ  اس عظیم محسن محمد صلی اللہ علیہ وسلم  کے پاس پہنچی جو خوش قسمتی سے ابھی مکہ ہی میں ٹھہرے تھے۔

اپنے جانثاروں کے گرد عظیم سپہ سالار  کہ جس کے چہرے پر غرور و فخر کی بجائے ہلکی سی مسکراہٹ تھی، یوں بیٹھا تھا جیسے ستاروں کے جھرمٹ میں چاند ہو۔ عکرمہ کو آتے دیکھ کر اس کے جانثاروں نے فوراً تلواریں نکال لیں  کہ کہیں نقصان نہ پہنچا دے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛

؛"عکرمہ کو آنے دو، یہ اسلام قبول کرنے کے لیے آ رہا ہے "۔

یہ عکرمہ رضی اللہ عنہ تھے  جو قریش کے سردار ابو جہل کے بیٹے تھے۔ جنہوں نے اس موقع پر کلمہ پڑھ کر اپنی زندگی کو اسلام کے لیے وقف کر دیا  اور پھر مرتے دم تک غلبہ اسلام کے لیے کوشاں رہے۔

اسامہ اعوان

روافض کے نزدیک ان کے اماموں کا مقام

امت مسلمہ کے نزدیک جس طرح تمام نبی ورسول اﷲتعالیٰ کی طرف سے مقرر اور نامزد ہوتے ہیں ،امت یا قوم اسے منتخب نہیں کرتی ٹھیک اسی طرح شیعہ حضرات کے یہاں نبی کے بعد ان کے جانشین وخلیفہ اور امام بھی اﷲتعالیٰ ہی کی طرف سے نامزد کیے جاتے ہیں ۔ان کے عقیدے کے مطابق ان کے یہ تمام ’’امام‘‘ایک ’’نبی‘‘کی طرح معصوم ہی ہوتے ہیں ،انبیاء ورسل ہی کی طرح ان کی اطاعت امت پر فرض ہوتی ہے ۔مرتبہ کے لحاظ سے یہ’’ائمہ ‘‘تمام انبیاءا ورسولوں سے افضل اور رسول اکرم ﷺ کے برابر ہوتے ہیں ۔ان کے خیال میں خاتم النبیین ﷺ کی وفات کے بعد اس دنیا کے خاتمہ تک اﷲتعالیٰ کی طرف سے بارہ امام نامزد ہیں ۔جو امام اول علی� سے شروع ہوکر علی الترتیب حسن عسکری تک دنیا میں آکر کاروبار امامت انجام دینے کے بعد وفات پاگئے مگر بارہویں اور آخری امام بغداد کے پاس ’’سرمن رای ‘‘کے غار میں روپوش ہیں اور وہی قرب قیامت میں مہدی بن کر نمودار ہوں گے اور دنیا پر بلا شرکت غیرحکومت کریں گے وغیرہ وغیرہ۔

ایران کے مقتدر شیعی رہنما اور ایرانی انقلاب کے بانی آنجہانی آیت اﷲ خمینی اپنی کتاب ’’الحکومۃ الاسلامیہ ‘‘میں ’’الولایۃ التکوینیہ ‘‘کے عنوان کے تحت رقم طراز ہیں :

) وان من ضروریات مذ ھبنا ان لأئمتنا مقاماً لا یبلغہ ملک مقرب ولا نبي مرسل (

’’اور ہمارے مذہب )اثنا عشریہ (کے ضروری اور بنیادی عقائد میں سے یہ عقیدہ بھی ہے کہ ہمارے ائمہ کو وہ مقام ومرتبہ حاصل ہے ،جس تک کوئی مقرب فرشتہ اور نبی مرسل بھی نہیں پہنچ سکتا‘‘۔)الحکومۃ الاسلامیہ ،آیت اﷲ خمینی ص: (52

جمہور امت مسلمہ کے نزدیک کائنات کے ذرہ ذرہ پر حکومت وفرماروائی صرف اﷲ تعالیٰ کی ہے اور ساری مخلوق اس کے تکوینی حکم کے سامنے سرنگوں اور تابع وفرمان ہے یہ شان کسی نبی اور رسول کی بھی نہیں ۔قرآن مجید کی بے شمار آیتیں اس بات کا واضح طور پر اعلان کرتی ہیں مگر اہل تشیع کا عقیدہ ہے کہ :

) فان للامام مقاماً محمود اً ودرجۃ سامیۃً وخلافۃً تکوینیۃ تخضع لولایتھا وسیطرتھا جمیع ذرات الکون (

’’امام کو وہ مقام اور بلند درجہ اور ایسی تکوینی حکومت حاصل ہوتی ہے کہ کائنات کا ذرہ ذرہ اس کے حکم واقتدار کے آگے سرنگوں اور تابع فرمان ہوتا ہے ‘‘ )الحکومۃ الاسلامیہ ،آیت اﷲخمینی : (52

اثنا عشری مذہب کی روسے شیعہ حضرات کے ائمہ کو انبیاء� کے تمام خصائص اور کمالات ومعجزات تک حاصل تھے اور ان کا درجہ ا نبیاء سابقین ،یہاں تک کہ اولوالعزم انبیاء نوح ،ابراہیم ،موسیٰ اور عیسیٰ� سے بھی بلند وبرتر ہے ۔شیعہ حضرات کی مستند ترین کتاب ’’الجامع الکافی ‘‘جو ابوجعفر یعقوب کلینی راوزی )المتوفیٰ 328ھ (کی تصنیف ہے ،صحت واستناد کے لحاظ سے اہل تشیع کے نزدیک اس کا وہی درجہ ہے جو امت مسلمہ کے نزدیک صحیح بخاری کا ہے ،بلکہ اس سے بھی زیادہ کیونکہ ان کے عقیدے کے مطابق ’’الجامع الکافی‘‘بارہویں غائب امام کی تصدیق شدہ شیعہ مذہب کا سارا دارومدار اسی کتاب پر ہے ’’اصول کافی ‘‘میں کتاب الحجہ باب )ان الارض کلھا للامام (کے تحت ابوبصیر سے روایت ہے کہ ان کے ایک سوال کے جواب میں امام جعفرصادق نے فرمایا :

) اما علمت انّ الد ینا والاخرۃ للامام یضعھا حیث یشاء ویدفعھا الی من یشاء (

’’کیا تم کو یہ بات معلوم نہیں کہ دنیا اور آخرت سب امام کی ملکیت ہے ۔وہ جس کو چاہیں دے دیں اور جو چاہیں کریں ‘‘)اصول کافی :ص (259

شیعوں کے کثیر التصانیف بزرگ اورمجتہد مُلّا باقر مجلسی اپنی تصنیف ’’حیاۃ القلوب‘‘میں تحریر فرماتے ہیں:

’’امامت بالاتر از رتبہ پیغمبری ‘‘امامت کا درجہ نبوت و پیغمبری سے بالا تر ہے ‘‘۔)حیات القلوب :ملا باقر مجلسی ج3 ص (10

اہل اسلام کا عقیدہ ہے کہ ازل سے ابد تک ساری باتوں کا علم )ما کان وما یکون کا علم(اﷲتعالیٰ کے سوا کسی کو حاصل نہیں اور اس کا علم ساری کائنات کو محیط ہے: وَّ اَنَّ اﷲَ قَدْ اَحَاطَ بِکُلِّ شَیْئٍ عِلْمًا )الطلاق: (12 یہودی ذہن وفکر نے اپنی افتاد طبع کے مطابق ’’غلو عقیدت ‘‘کے نظریہ کو فروغ دینے کے لیے پہلے رسول اﷲ ﷺ کے لیے )ماکان وما یکون(کے علم کا پروپیگنڈا کیا اور پھر آپ ﷺ کے بعد شیعہ حضرات کے خود ساختہ ’’ائمہ معصومین ‘‘اس علم کے وارث اور امین ٹہرائے گئے ،شدہ شدہ یہ مشرکانہ نظریہ عقیدت رسول کے بھیس میں عامۃ المسلمین کے ایک خاص طبقہ یعنی ’’اہل بدعت ‘‘کا بھی اوڑھنا بچھونا بن گیا۔

ملاحظہ کیجئے شیعی روایت :امام جعفر صادق نے اپنے خاص رازداروں کی ایک محفل میں ارشاد فرمایا :

) لو کنت بین موسی والخضر لأخبرتھما انی اعلم منھما ولانباتھما ما لیس فی اید یھما لأن موسیٰ والخضر علیھما السلام اعطیا علم ما کان ولم یعطیا علم ما یکون وما ھو کائن حتی تقوم الساعۃ وقد ورثناہ من رسول اﷲﷺ وآلہ وراثۃ (

’’اگر میں موسیٰ اور خضر کے درمیان ہوتا تو ان کو بتا تا کہ ان دونوں سے زیادہ علم رکھتا ہوں ،اور ان کو اس سے باخبر کرتا ہوں جو ان کے علم میں نہیں تھا ۔کیونکہ موسیٰ وخضر � کو صر ف ’’ماکان‘‘کا علم حاصل ہوا تھا اور ’’ما یکون ‘‘اور جو کچھ قیامت تک ہونے والا ہے اس کا علم ان کو نہیں دیا گیا تھا ۔اور ہم کو وہ علم رسول اﷲ ﷺاور آپ کی آل سے وراثت میں حاصل ہوا ہے ‘‘ )اصول کافی :ص: (160

اہل تشیع کا یہ عقیدہ ہے کہ دنیا کبھی امام سے خالی نہیں رہ سکتی ،اصول کافی میں ابوحمزہ سے روایت ہے کہ انہوں نے چھٹا امام جعفر صادق سے دریافت کیا کہ یہ زمین بغیر امام کے باقی اور قائم رہ سکتی ہے ؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ اگر زمین پر امام کا وجود باقی نہ رہے تو وہ دھنس جائے گی باقی نہیں رہے سکے گی۔ )اصول کافی ،ص: (104

اسی طرح اما م باقر سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ اگر امام کو ایک گھڑی کے لئے بھی زمین سے اٹھالیا جائے تو وہ اپنی آبادی کے ساتھ ایسے ڈولے گی جیسے سمندرمیں موجیں آتی ہیں۔

اہل کتاب )یہود ونصاریٰ(کا دعویٰ ہے کہ یہود ونصاریٰ کے علاوہ کوئی دوسراگروہ جنت میں داخل نہیں ہوپائے گا ۔اہل تشیع کے یہاں بھی یہ دعویٰ اسی کروفر کے ساتھ پایا جاتا ہے ان کے نزدیک ائمہ معصومین کو ماننے والے )یعنی شیعہ حضرات (اگر ظالم اور فاسق بھی ہیں تب بھی جنت ہی میں جائیں گے اور ان کے علاوہ مسلمان اگرچہ متقی اور پرہیز گار بھی ہوں اس کے باوجود دوزخ میں ڈالیں جائیں گے ۔اصول کافی میں امام باقر سے روایت کی گئی ہے آپ نے فرمایا:

) ان اﷲ لا یستحي ان یعذب امۃ وانت بامام لیس من اﷲ ، وان کانت في اعمالھا برۃ تقیۃ وانّ اﷲ لیستحی ان یعذب امۃ وانت بامام من اﷲ وان کانت فی اعمالھا ظالمۃ مسیئۃ) (اصول کافی: ص، (238

اﷲتعالیٰ ایسی امت کو عذاب دینے سے نہیں شرمائے گا جو ایسے امام کو مانتی ہو جو اﷲ تعالیٰ کی طرف سے نامزد نہیں کیا گیا ہے ،اگرچہ یہ امت اپنے اعمال کے لحاظ سے نیکو کار اور متقی وپرہیز گار ہو،اور ایسے لوگوں کو عذاب دینے اﷲتعالیٰ احتراز فرمائے گا جو اﷲتعالیٰ کی طرف سے نامزد اماموں کو مانتے ہوں ۔اگرچہ یہ لوگ اپنی عملی زندگی میں ظالم و بدکردار ہوں‘‘

واضح رہے کہ اسی قسم کی شیعی ذہنیت یا دوسرے لفظوں میں ’’یہودی اندازِ فکر ‘‘بعد کے دور میں رفتہ رفتہ مسلمانوں میں بھی رچ بس گیا اور نوبت بہ ایں جارسید کہ چند فقہی یا فروعی اختلافات کی بنیاد پر امت مسلمہ میں موجود بدعت پسند گروہ کے ’’شیخ الشیوخ‘‘ )احمد رضا خاں بریلوی من فرقۃ البریلویہ(نے جو برصغیر میں مشہور ومعروف ہیں اپنے مخالف توحید مسلم افراد جماعتوں کے خلاف یہ بھپتی تصنیف کرڈالی کہ :

تجھ سے اور جنت سے کیا نسبت وہابی دور ہو ہم رسول اﷲ کے ،جنت رسول ا ﷲ کی ! ) ص: (1

قطع نظر اس کے کے ان کے اپنے گروہ کے افراد کی اکثریت دین وشریعت کی کتنی پیروکار اور نماز ،روزہ ،زکاۃ ،حج وغیرہ ارکانِ اسلام پر کس حد تک عمل پیرا ہے ؟؟ صریح مشرکانہ اعمال اور بدعتی رسوم میں دان رات مبتلا ہونے اور اسلام کے صاف وشفاف اور پاکیزہ دامن میں فسق وفجور اور ہر طرح کی معصیت کے داغ ودھبے لگاتے رہنے کے باوجود یہ لوگ خود کو جنت کا ٹھیکیدار سمجھ بیٹھے ہیں ۔

اہل کتاب )یہود ونصاریٰ (کی دوسری صفت جو قرآن مجید میں بیان کی گئی ہے وہ ان کا اپنے دینی پیشواؤں ،اور راہبوں اور درویشوں کو اﷲکے صفات سے متصف کرنا ہے ۔یہ مذموم اور مشرکانہ نظریہ بھی ’’شیعی مذہب‘‘میں پورے آب وتاب کے ساتھ جلودہ گر ہے ان کی کتابوں سے چند اقتباسات ملاحظہ ہوں:

اصول کافی کتاب الحجہ باب مولد النبیﷺ میں محمد بن سنان سے روایت ہے کہ انہوں نے ابوجعفر ثانی )محمد بن علی نقی(سے )جو نویں امام ہیں(حرام وحلال کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے فرمایا :

)یا محمد! ان اﷲ تبارک وتعالیٰ لم یزل منفرداً بواحدنیتہ ثم خلق محمد اً وعلیاً وفاطمۃ فمکثوا الف دھرٍ ثم خلق جمیع الأشیاء فأشھد ھم خلقا واجری طاعتھم علیھا وفوّض امورھا الیھم فھم یحلون مایشاؤن ویحرمون ما یشاؤن ولن یشاؤا الا ان یشاء اﷲ تبارک وتعالیٰ)(اصول کافی :ص: (278

اے محمد!اﷲتعالیٰ ازل سے اپنی وحدانیت کے منفرد رہا ،پھر اس نے محمد،علی ،اور فاطمہ کو پیدا کیا ،پھر یہ لوگ ہزاروں قرن ٹھہرے رہے ۔اس کے بعد اﷲنے دنیا کی تمام چیزوں کو پیدا کیا ،پھر ان مخلوقات کی تخلیق پر ان کو شاہد بنایا اور ان کی اطاعت وفرمانبرداری ان تمام مخلوقات پر فرض کی اور ان کے تمام معاملات ان کے سپرد کئے ۔یہ تو حضرات جس چیز کو چاہتے ہیں حلال کردیتے ہیں اور جس چیز کو چاہتے ہیں حرام کردیتے ہیں۔اور یہ نہیں چاہتے مگر جو اﷲ تبارک تعالیٰ چاہے ‘‘۔

علامہ قزوینی نے اس ’’روایت‘‘کی شرح میں یہ تصریح کردی ہے کہ یہاں محمد ،علی اور فاطمہ سے مراد یہ تینوں حضرات اور ان کی نسل سے پیدا ہونے والے تمام ائمہ ہیں ۔)الصافی شرح اصول کافی جزء :3 جلد 2 ص: (149

اصول کافی ہی میں امام جعفر صادق سے روایت ہے :

) قال ولا یتنا ولایۃ اﷲ التی لم ےُبعث نبي قط الا بھا) (اصول کافی: ص (276

’’ہماری ولایت )یعنی بندوں اور تمام مخلوقات پر ہماری حاکمیت (بعینہٰ اﷲتعالیٰ کی ولایت وحاکمیت جیسی ہے جو نبی بھی اﷲکی طرف سے بھیجا گیا وہ اس کی تبلیغ کا حکم لے کر بھیجا گیا‘‘۔

Tuesday, April 30, 2013

Website Shall be updated the coming Friday, In Sha Allah.

Assalam o Alaikum Warehmatullahi Wabarakatoh!

All the praises to Allah Almighty and peace and blessings be on the Prophet Muhammad (S.A.W.). 

I am really sorry for not updating the website for some time. Now the website shall be updated regularly, In Sha Allah.

Wednesday, April 10, 2013

افغانستان، پنجوائی، امارت اسلامیہ افغانستان کے حملے کے نتیجے میں جاسوسی بیلون تباہ

جارح فوجوں پر امارت اسلامیہ افغانستان کے مجاہدین نے صوبہ قندہار کے ضلع پنجوائی میں فوجی مرکز پر نصب جاسوسی بیلون مار گرایا، جبکہ چوکی پر حملہ بھی کیا۔

مشان کے علاقے میں واقع جارح فوجوں کی مرکز پر نصب جدید کیمروں سے لیس جاسوسی بیلون کو مجاہدین اسلام نے منگل کے روز ۲۰۱۳۔۰۴-۰۹ مقامی وقت کے مطابق صبح نو بجے راکٹ لانچر کا نشانہ بنا کر مار گرایا اور زمین پر آ گرا۔

نیز منگل کے روز مغرب کے وقت زنگ آباد کے علاقے خانان گائوں میں واقع کٹھ پتلی فوجوں کی چوکی پر مجاہدین نے ہلکے و بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا، جو ایک گھنٹے تک جاری رہا، جس میں دشمن کو جانی و مالی نقصان کا سامنا ہوا۔

افغانستان، قلات، دشمن کا آپریشن ناکام

افغانستانی فوج نے صوبہ زابل کے صدر مقام قلات شہر میں مجاہدینِ اسلام کے خلااف سرچ آپریشن کا آغاز کیا۔

رپورٹ کے مطابق ۰۹۔۴۔۲۰۱۳ دن بھر گھروں کی تلاشی لی گئی، جو الحمد اللہ مکمل طور پر ناکام رہیں۔

ان آپریشن میں مجاہدین کو کسی قسم کا نقصان نہیں ہوا۔ الحمد اللہ۔

بٹی کوٹ، افغانستان میں شدید لڑائی ، ۵ ہلاک

افغانستان، صوبہ ننگرہار، بٹی کوٹ مین شدید جھڑپیں جاری۔

بدھ کے روز بمطابق ۱۰/۴/۲۰۱۳ مقامی وقت کے مطابق دس بجے جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ یہ جھڑپیں افغانستانی فوج نے مجاہدینِ اسلام کے خلاف ضلع چاردہ، گڑی اور کوندیان میں سرچ آپریشن کے نتیجے میں شروع ہوئیں۔

ان جھڑپوں کے نتیجے میں پانچ کرائے کے فوجی ہلاک جبکہ ۳ زخمی ہوئے۔ جبکہ ایک مجاہد زخمی ہوا۔

Sunday, March 24, 2013

ہم جہاد کیوں کرتے ہیں؟؟؟

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
ایک فی سبیل اللہ جہاد کو ہی ہم اسلامی جہاد کہہ سکتے ہیں۔ پھر اس کی کچھ شرائط اور مقاصد ہوتے ہیں کہ جو فی سبیل اللہ جہاد کی پہچان بتاتے ہیں۔ آج کے دور میں بہت ساری جہادی تحریکیں سرگرم ہیں اور کچھ ایسی جماعتیں بھی بیدار ہیں کہ جو بظاہر نام تو جہاد کا لیتی لیں مگر ان کے اس جہاد کو فی سبیل اللہ نہیں کہا جا سکتا۔
کچھ ایسے سوالات بھی اٹھائے جاتے ہیں کہ جہاد کیوں ضروری ہے، کس مقصد کے لئے کیا جائے، اور کیا آج کے زمانے میں جہاد کیا جا سکتا ہے؟
اسی طرح مسلمانوں کے خلاف قتال کرنا کیسا ہے اور اس جیسے دیگر سوالات کے لئے یہ مختصر کتابچہ پیشِ خدمت ہے۔
اس کا مطالعہ کریں اور آگے بھائیوں میں بھی تقسیم کریں۔
abstract_0072
Download Link:
ذیل میں مختلف ڈائونلوڈ لنکس مہیا کیے گئے ہیں۔ اگر ایک لنک کام نہ کرے تو دوسرے کی مدد سے اپنے کمپیوٹر میں فائل کو اتار لیں۔
اگر بالفرض تمام لنکس کام نہیں کر رہے، تو براہ کرم بذریعہ کمنٹس مطلع کر دیں۔ جزاک اللہ خیرا۔
Main Link (Try this first):
Download_button

Link 1:
Download_button
Link 2:
Download_button

Monday, March 11, 2013

بے حیا قومیں مقابلہ کر ہی نہیں سکتیں، تحریر حیات عبداللہ

میں کسی فلمی دنیا یا فحاشی سے اٹے بازاروں کی بات کرنے نہیں چلا کہ ان منحوس جگہوں پر تو بے حیائی اور فحاشی کا منہ پھاڑ کر بیٹھنا کوئی اچنبھے کی بات نہیں، میں تو ان کے عام معاشرے اور حکومت پر برسر اقتدار لوگوں کا ذکر کرنے لگا ہوں کہ ان کی نس نس میں بے حیائی کس قدر کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے، اس حقیقت میں رتی برابر شبہ نہیں کہ بے حیائی تمام حدود اور اصول و ضوابط کی بندشوں سے آزاد ہوتی ہے۔ بے حیا لوگ، بے حیائی سے کسی طرح بھی سیر ہونے میں نہیں آتے ، نہ کسی مرحلے پر بس کرتے ہیں بلکہ وہ عریانیت کے نئے نئے طریقے کھوجتے چلے جاتے ہیں۔ امیرکہ کی شمالی ریاست کا نام سان فرانسسکو ہے،۲۲نومبر۲۰۱۲ءکو وہاں قانون ساز اداروں کی جانب سے عوامی مقامات پر شہریوں کو برہنہ گھومنے پر پابندی عائد کی گئی تو ہزاروں امریکیوں نے اس پابندی کے خلاف شدید احتجاج کیا۔ لوگ سڑکوں پر نکل آئے کہ یہ ناروا پابندی ختم کی جائے، آپ حیران ہوں گے کہ کیلی فورنیا میں فٹ بال کی ایک ٹیم ایسی ہے کہ جو بالکل برہنہ ہو کر فٹ بال کھیلتے ہیں۔

گزشتہ ہفتے تمام قومی اخباروں میں یہ خبر شائع ہوئی کہ ویانا میں ایک عجائب گھر ایسا بنایا گیا ہے جس میں تمام تصاویر بالکل برہنہ لوگوں کی لگائی گئی ہیں۔ اس سے زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ اس عجائب گھر کو دیکھنے کے لئے بالکل برہنہ ہو کر جانا ضروری ہے۔ اگر کسی کے بدن پر چھوٹا سا بھی کپڑا موجود ہے تو وہ اس عجائب گھر کو دیکھنے سے محروم رہ سکتے ہیں۔ ان لوگوں کی حیا باختگی ملاحظہ کرتے جائیں اور سوچتے چلے جائیں کہ بے حیائی کس طرح ان کے رگ و ریشے میں سرایت کر چکی ہے۔۲۰۰۷ءمیں فرانس کی خاتون اول کارلا برونی کی برہنہ تصویر۹۱ہزار ڈالر میں فروخت ہوئی۔ توقع یہ کی جا رہی تھی کہ یہ تصویر چار ہزار ڈالر تک فروخت ہو گی مگر جب یہ تصویر۹۱ہزار ڈالر میں بکی تو خوشی سے بغلیں بجائی گئیں۔

اپریل۲۰۱۲ءمیں یوگنڈا کے دارالحکومت کمپالا میں ایک خاتوں” انگرو تورینا “ پر جنسی حملہ ہوا مگر عقل کے اندھوں نے اس جنسی حملے کے خلاف پندرہ عورتوں نے نیم برہنہ ہو کر احتجاج کیا، ان خواتین نے پولیس سٹیشن تک نیم برہنہ مارچ کیا اور کپڑے پہننے سے انکار کر دیا، ان فاتر العقل لوگوں سے کوئی پوچھے کہ بھلا یہ عزت اور آبرو بچانے کا کون سا طریقہ ہے؟

؛۱۵ستمبر۲۰۱۲ءکو شہزادہ ولیم کی اہلیہ کیٹ مڈلٹن کی برہنہ تصویر فرانس کے ایک جریدے” کلوژر “ نے سرورق پر شائع کر دی جس سے شہزادے کو تھوڑا سا دکھ پہنچا، عقل کے کو دن اور بھوندو شہزادے نے خفا ہونے کی بجائے یہ سوچنے کی زحمت گوارا نہیں کی کہ آخر و ہتصائیر آئیں کہاں سے ہیں؟ ظاہر ہے اس کی اہلیہ نے وہ تصاویر بنوائی تھیں اسی لئے تو شائع ہو گئیں اگر وہ برہنہ تصاویر نہ بنواتی تو کوئی ایسے کیسے شائع کر سکتا تھا، شہزادے کو اچھی طرح معلوم تھا کہ جب وہ ملکہ برطانیہ کے بھتیجے لورڈ لنلے کے فرانسیسی محل میں چھٹیاں گزارنے گیا تھا جب اس کی اہلیہ کی تصاویر اتاری گئی تھیں مگر غصہ اہلیہ کی بجائے رسالے پر، برطانوی اخبار” دی سن “ بھی شہزادے ہیری اور شہزادی کیتھرین کی متعدد برہنہ تصاویر شائع کر چکا ہے۔

کفر جب شرم و حیا کی تمام حدود پھلانگ کر اورر بے حیائی میں لتھڑ کر عالم اسلام پر حملہ آور ہو تو اس حیا باختگی کا مقابلہ کرنے کے لئے اتنا ہی تقویٰ اور خشیت الہٰی سے سر سبز و شاداب ہو کر برسرپیکار ہونا ضروری ہوتا ہے۔ ایک طرف بے حیائی کا یہ عالم ہے تو دوسری جانب تقویٰ بھی بام عروج پر ہے۔ آج الحمد للہ بیس بیس سال کے نوجوانوں میں تقویٰ اس قدر رچ بس چکا ہے کہ وہ تہجد کی نماز میں گڑ گڑا کر شہادت کی دعائیں مانگتے ہیں۔

ایمان و ایقان کی چاشنی میں گندھا میلسی کا مسعود احمد شہید  اس نوجوان کی خواہش جہاد سے شروع ہو کر شہادت پر منتج ہوتی۔ ایم۔ ایس۔ سی۔ کرنے کے باوجود بھی وہ میدان جہاد کا شاہ سوار اور شہادت کا طلبگار تھا۔ مجھے اس کے ساتھ گزاری ایک رات کبھی نہیں بھولے گی جس میں میرے پیارے دوست خالد وقار مرحوم اور ابو زبیر بھی شامل تھے۔ اس کی باتوں سے بھی جہاد کی لپیٹیں اٹھ رہی تھیں، ہم نے تمام رات جاگ کر گزاری، فجر کی نماز پڑھ کر سوئے، رات گئے تک موضوع سخن جہاد فی سبیل اللہ اور شہداء کی باتیں تھیں، وہ کہنے لگا کہ میں نے پبلک سروس کمیشن سے سب انسپکٹر کا امتحان بھی پاس کر لیا ہے مگر یہ میری منزل ہر گز نہیں۔ میری تمنا شہادت ہے۔ میرا سوال تھا کہ اگر آپ نے شہید ہی ہونا ہے تو پبلک سروس کا امتحان دیا ہی کیوں؟ جواب تھا کہ لوگ یہ نہ سمجھ لیں کہ میں نا اہل ہوں، مجھے اس کی باتوں پر ایک فیصد بھی یقین نہ آیا کہ اتنا نازک اندام لڑکا ایک انتہائی پرکشش ملازمت کو چھوڑ کر مقبوضہ کشمیر پہنچ جائے گا مگر دو ماہ بعد ہی مجھے پتہ چلا کہ وہ تو مقبوضہ وادی میں پہنچ بھی چکا اور پھر چند دنوں بعد ہی اس کی شہادت کی خبر آ گئی، ان کے والد محترم نے نہ صرف بیٹا جہاد کے لئے پیش کیا بلکہ ایک لاکھ روپے بھی جہاد فنڈ میں جمع کروائے۔

ضلع قصور کے اس نوجوان کے تقویٰ اور جہاد کے ساتھ محبت کا واقعہ ہی میرے علم ہے کہ جو پانچ بہنوں کا اکیلا بھائی تھا، چار بہنیں کنواری جبکہ پانچویں طلاق یافتہ اور دو بچوں کی ماں تھی، اس نوجوان نے کشمیر میں بھارتی فوجیوں کی مسلمان لڑکیوں پر ظلم و زیادتی کی خونچکاں واقعات لکھ کر اپنی بہنوں کو پڑھنے کو دیے اور جہاد کے لئے کشمیر جانے کی اجازت طلب کی، یہ پڑھ کر بہنیں رو پڑیں۔ سب سے بڑی بہن کو مختلف گھروں میں محنت مزدوری کر کے تنخواہ کے جو پانچ ہزار روپے ملتے تھے، اس نے اپنی پوری تنخواہ اپنے بھائی کو کرائے کے لئے دے دی۔

اے حساس دلوں کے مالک لوگو، ہر چیز کا باریک بینی سے جائزہ لینے والو، ذرا چند لمحات کے لئے اس منظر کو اپنی آنکھوں میں تو لائو کہ وہ کتنا دل دوز اور تڑپا دینے والا سماں ہو گا جب پانچ بہنیں اپنے ایک ہی بھائی کو مہینے بھر کی تنخواہ دے کر صرف اس مقصد کے لئے رخصت کر رہی تھیں کہ وہ جہاد فی سبیل اللہ میں جا کر اپنی جان قربان کر دے، عام طور پر تو بھائی اپنی بہنوں کی رخصتی کرتے ہیں۔

بہنوں کی جب شادی ہوتی ہے تو رخصتی کے وقت پتھر دل بھائیوں کی آنکھیں بھی اشکوں سے لد جاتی ہیں مگر چشم فلک یہ کیسا منفرد اور ایمان افروز منظر دیکھ رہی تھی کہ پانچ بہنیں اپنے بھائی کو اللہ کی جنتوں کا دولہا بننے کے لئے رخصت کر رہی تھیں، اس وقت بھائی اور بہنیں کس قدر تڑپ تڑپ کر روئے ہوں گے، وفور جذبات سے ان کے دلوں میں کس قدر تلاطم بپا ہو گیا ہو گا اور بوڑھی والدہ کا دل کس قدر سسک سسک کر رو دیا ہو گا اور پھر وہ نوجوان واقعی مقبوضہ کشمیر میں شہید ہو گیا،  شہادت کی اطلاع دینے کے لیے جب ساتھی ان کے گھر گئے تو غربت کا یہ حال تھا کہ اس کی بڑی بہن پاپے [ رس ]  پانی میں بھگو بھگو کر اپنے دو بچوں کو کھلا رہی تھی، یورپ کے ننگے اور حیا باختہ لوگو، تم کس قوم کے نوجوانوں سے لڑنے کی حماقت کر بیٹھے ہو۔ مغربی کے عیاشی کے دل دادہ بھیڑیو، کیا تم پورے مغرب اور یورپ میں کوئی ایک نوجوان، کوئی ایک ایسی ماں، کوئی ایک ایسی بہن اور کوئی ایک ایسا باپ پیش کر سکتے ہو؟ یہاں ہزاروں ایسی مائیں اور بہنیں موجود ہیں جو اپنے بیٹوں اور بھائیوں کو شہادت کے لئے خود رخصت کرتی ہیں، جو رات کے پچھلے پہر اٹھ اٹھ کر اپنے بیٹے کی شہادت کی دعائیں مانگتی ہیں۔ کتنی ہی مائیں اپنے بوڑھے اور لرزتے وجود کے ساتھ اللہ کے سامنے کھڑی ہو کر رو رو کر دعائیں کرتی ہیں کہ اللہ انہیں بھی شہید بیٹے کی ماں بنا دے۔ یہاں بے شمار ایسے باپ ہیں جو خود اپنے بیٹوں کو جہاد فی سبیل اللہ کے لئے دعائیں دے کر رخصت کرتے ہیں۔

امریکہ کے تمام اتحادی اور ناٹو فورسز اپنے کانوں کا میل نکال کر اچھی طرح سن لیں کہ تمہیں افغانستان کے کوچے کوچے میں ایسے نوجوان ملیں گے اور بھارتی ساڑھے آٹھ لاکھ گیڈر بھی اچھی طرح ذہن نشین کر لیں کہ انہیں مقبوضہ کشمیر کے چپے چپے پر ایسے گھبرو اور متقی نوجوان ملیں گے ان نوجوانوں کا مقابلہ تمہارے اجداد کر سکے تھے نہ تم کر سکتے ہو نہ تمہاری آنے والی نسلیں ان کے سامنے ٹھہر سکتی ہیں ان شاء اللہ اس لئے کہ ننگی اور با حیا قومیں مقابلہ نہیں کر سکتیں۔

ہفت روزہ جرار لاہور

Friday, March 8, 2013

جہادی یلغاروں سے تھائی لینڈ ڈھیر، مسلمانوں سے امن معاہدہ کر لیا

؛٢٠٠٥ء سے مسلمانوں پر بے پناہ مظالم ڈھائے گئے، پانچ ہزار مسلمان شہید ہو چکے، جہادی حملے بڑھنے سے حکومت حواس باختہ، مذاکرات کا میزبان ملائیشیا ہے۔

تھائی لینڈ کی حکومت نے بالآخر مسلمانوں اور مجاہدین کے سامنے ہتھیار ڈال کر مذاکرات شروع کر دیے ہیں۔۲۰۰۵ء سے لے کر اب تک مقامی حکومت نے مسلمانوں پر بے پناہ مظالم ڈھائے۔اس عرصہ میں۵ہزار سے زائد مسلمان شہید ہوئے جبکہ مظالم بڑھنے کے ساتھ مسلمانوں نے جہادی حملوں کا سلسلہ بھی تیز کر دیا۔ گزشتہ چند ماہ میں تھائی افواج پر تسلسل کے ساتھ حملوں نے حکومت کا حوصلہ ہی توڑ دیا۔ حکومت نے مذاکرات کر کے امن معاہدہ پر دستخط بھی کر دیئے۔ مذاکرات کی میزبانی ملائشیا کر رہا ہے۔ تھائی لینڈ کی حکومت نے ایک دہائی طویل تنازعہ کے خاتمہ کے لئے مجاہدین کے ساتھ امن مذاکرات کے معاہدہ پر دستخط کر دیئے ہیں۔ معاہدہ پر دستخط ملائیشیا میں مسلمانوں کی جہادی تنظیم بی۔ آر۔ این۔ یعنی نیشنل ریوولوشن فرنٹ نے کئے۔ تھائی لینڈ پہلی بار مجاہدین کے ساتھ امن مذاکرات کر رہا ہے۔ ملائیشیا کے وزیراعظم نجیب رزاق اور تھائی لینڈ کے وزیراعظم کے درمیان کوالالمپور میں ملاقات ہوئی۔

ملائیشیا بات چیت میں معاونت کر رہا ہے اور توقع ہے کہ فریقین کے درمیان امن مذاکرات کی میزبانی کرے گا۔ حکام نے کہا ہے کہ معاہدہ کی جن دستاویزات پر دستخط کئے گئے ہیں۔ اس سے مذاکرات کا عمل شروع ہو سکے گا۔ نامہ نگاروں نے کہا کہ تشدد جس میں حالیہ ماہ میں اضافہ دیکھنے میں آیا کے خاتمہ کے حوالے سے یہ ایک اہم پیش رفت ہے۔تھائی لینڈ کی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری جنرل جنرل پارا ڈورن پٹانا تھابتر نے کہا کہ بد امنی کے خاتمہ کے لیے یہ حکومت کی ایک اور کوشش ہے لیکن بی۔آر۔این ۔ کی جانب سے معاہدہ پر دستخط کرنے والے حسن تاب نے کہا کہ اللہ کا شکر ہے کہ ہم مسئلہ کے حل کے لیے اپنی بہترین کوشش کریں گے۔

ہفت روزہ جرّار لاہور

طالبان سے مذاکرات، افغانستان میں مصالحت، ہمارے مسائل کا حل

اس وقت طالبان سے مصالحت کا تذکرہ حکومتی ایوانوں میں پورے عروج پر ہے۔ اس سلسلے کا آغاز چند ہفتے قبل ہوا جب اے۔این۔پی۔ نے مصالحت کے لیے بات چیت شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد ان کی اے۔پی۔سی۔ ہوئی۔ پھر جمیعت علمائے اسلام ف نے اے ۔ پی۔سی۔ منعقد کی۔

طالبان سے بات چیت کو ملک کے سب سے بڑے سیاسی حمایت رکھنے والی پارٹی مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف کی بھی حمایت حاصل ہے۔ عمران خان تو پہلے ہی حامی تھے، بیشتر دینی و محبّ وطن طبقے بھی اس رائے کو شروع سے آگے بڑھا رہے تھے، بالآخر فوج نے بھی یہ کہہ کر مذاکرات کو مسائل کا حل قرار دیا کہ” جب قوم آپریشن پر متفق نہیں تو ہم کیونکر ایسا اقدام کر سکتے ہیں “۔ ویسے تو یہ کوئی پہلی بار نہیں ہے کہ ہم نے حکومت کو یہ مشورہ دیا ہو کہ وہ ملک میں جنگ و جدل کے بجائے صلح جوئی سے کام لیتے ہوئے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھائے۔ دنیا میں ہر جگہ اپنے ملک کے لوگوں سے بات چیت ہی کی جاتی ہے کیونکہ اپنے ملک کے لوگوں کے خلاف جنگ کا نتیجہ کبھی سوائے تباہی کے اور کچھ نہیں نکلتا۔

جن لوگوں کے بارے میں آپ کا خیال ہے کہ وہ ملکی مفاد کے خلاف ہیں تو جناب اب انہوں نے کھل کر آپ سے صلح و صفائی کا ہاتھ آگے بڑھا دیا ہے تو اسے عظیم موقع جانیے اور بغیر امریکی دبائو قبول کیے اپنا کام شروع کیجیے۔ ویسے تو حیرانی اس بات پر ہوتی ہے کہ امریکہ اپنے۵۰اتحادیوں سمیت گیارہ سال تک افغانستان میں بے پناہ جانی و مالی نقصان اٹھانے کے بعد بالآخر مذاکرات کی بساط بچھا کر نکلنے پر مجبور ہے تو ہم کیوں مذاکرات کے ذریعے امن کا راستہ نہیں نکال سکتے۔ ہم نے اپنے قبائلی لوگوں سے مذاکرات ہی نہیں کرنے بلکہ ہمیں اس سے دو قدم آگے بڑھ کر افغان طالبان اور وہاں کے بااختیار طبقوں سے بھی ہاتھ ملانا ہے۔

افغانستان میں امن ہمارے لیے سب سے اہم ہے۔ اس وقت پاکستان توانائی کے سنگین، بحران سے دوچار ہے اور گیس کے حصول کیلئے ایران سے معاہدہ کر چکا ہے لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ ایران سے گیس لینے کا کام۱۹۶۰ءسے جاری ہے جو آج تک کبھی مکمل نہیں ہوا۔ اب بھی اس کی کم سے کم مدت مزید دو سال بتائی گئی ہے۔ دو سال تک نجانے حالات کیا ہوں گے؟ ہماری ضروریات کتنی بڑھ چکی ہوں گی؟ اس لئے ہمیں فوری طور پر وسط ایشیا کے ملک ترکمانستان سے گیس کے حصول کیلئے کیا گیا معاہدہ بھی عملی شکل میں لانے کیلئے فوری کام کرنا چاہئے۔

ترکمانستان سے گیس اسی صورت میں مل سکتی ہے جب افغانستان میں مکمل امن و امان ہو گا اور یہ امن کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ امریکہ کے آنے سے پہلے افغانستان پاکستان کے پانچویں صوبے جیسی حیثیت رکھتا تھا۔ بعد میں ہم نے خود ہی اپنا کام خراب کیا۔ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہئے ایران سے گیس کے حصول میں جہاں امریکی دبائو ہے تو وہیں بلوچستان کے حالات کا درست ہونا بھی ضروری ہے کیونکہ اگر یہ لائن آبھی گئی تو یہ ہمیشہ ملک دشمنوں کے نشانے پر ہو گی جو کہ بلوچستان میں ٹھکانے بنائے بیتھے ہیں۔ اتنی طویل گیس لائن کی سکیورٹی مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہو گی، اس لئے جہاں مذاکرات سے امن کا قیام ضروری ہے وہیں مختلف زاویوں پر کام بھی ضروری ہے۔ بات چیت کے اس عمل میں جہاں اپنے قبائلی لوگوں سے مذاکرات ہوں گے وہیں ہم سفارش کریں گے کہ بلوچوں سے بھی ہر طرح سے بات چیت و امن کے دروازے کھولے جائیں۔ قبائلی علاقوں میں جس قدر انفراسٹرکچر تباہ ہوا، لوگوں کا مالی نقصان ہوا، اس کا تدارک و ازالہ بھی فوری کرنا ہو گا۔ لوگوں کو جلد از جلد ان کے گھروں میں بسانا ہماری اولین ترجیح ہونی چاہئے تا کہ قبائلی عوام کا ہمیں پھر سے اعتماد حاصل ہو اور ہم دوبارہ سے مضبوط پائوں پر کھڑے ہو سکیں۔

ہفت روزہ جرّار لاہور

کشمیر سے ایک فوجی واپس نہیں بلائیں گے، بھارت

افغانستان سے امریکی فرار میں تیزی اور مجاہدین کی سرگرمیوں میں اچانک اضافے سے بھارت کے اوسان خطا ہو گئے۔

حریت تنظیموں اور جہادی گروپوں کو بھارت سرکار  کی بھی مذاکرات کے لیے پیشکش، کالے قوانین بھی برقرار رکھنے کا فیصلہ، فوج واپس نہیں بلا سکتے،مجاہدین بڑا خطرہ ہیں: بھارتی وزیر مملکت برائے امور داخلہ کا لوک سبھا میں بیان۔

افغانستان سے امریکی و اتحادی افواج کے تیز تر فرار شروع ہونے کے بعد مقبوضہ کشمیر میں مجاہدین کی سرگرمیوں میں اچانک زبردست تیزی آنے لگی ہے۔ بھارت نے کنٹرول لائن پر انتظامات انتہائی سخت کر دیے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں اہم افسران اجلاس کر رہے ہیں جبکہ صورتحال کا ادراک کرتے ہوئے بھارت سرکار نے حریت تنظیموں اور جہادی گروپوں کو پھر مذاکرات کی پیش کش کی ہے۔ مرکزی حکومت نے کشمیر میں تشدد کا راستہ ترک کرنے والے تمام گروپوں بشمول حریت پسند لیڈران کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہونے کا اعلان کرتے ہوئے واضح کر دیا کہ” جموں و کشمیر میں میں تعینات فوج کی واپسی کا حکومت کا کوئی منصوبہ نہیں “بلکہ فوج کو کشمیر میں مجموعی سکیورٹی اور خطرات کے پیشِ نظر صورتحال قابو میں رکھنے کے لیے تعینات کیا گیا ہے۔ مرکزی حکومت نے ساتھ ہی کالے قانون افسپا کی واپسی اور اس میں ترمیم کے حوالے سے کہا کہ اس معاملے پر حتمی فیصلہ زمینی سطح پر حالات کو مدِ نظر رکھ کر لیا جائے گا لیکن کوئی ڈیڈ لائن مقرر نہیں کی جا سکتی ہے۔ راجیہ سبھا میں امور داخلہ کے مرکزی وزیر مملکت آر۔پی۔این۔سنگھ نے ایک سوال کے جواب میں اعلان کہہ دیا کہ” جموں و کشمیر میں فوج کی واپسی کا کوئی بھی منصوبہ حکومت کے زیر غور نہیں ہے پولیس کے مطابق فوج نے بھی مجاہدین کے خلاف بہترین کاروائی انجام دی اور مجاہدین پر زبردست دبائو بنائے رکھا جس کے نتیجے میں ریاست میں امن و امان کی صورتحال دیکھنے کو مل رہی ہے “۔

مزید کہا کہ کشمیر میں جو اس وقت صورتحال ہے وہ مجموعی طورپر بہتر ہے کہ خطرات برقرار ہیں۔

ہفت روزہ جرّار لاہور۔

Thursday, March 7, 2013

معمولی گناہ

دنیا کی بعض حقیقتیں ہر خاص و عام کے سامنے اس قدر عیاں ہو چکی ہوتی ہیں کہ ان سے صرفِ نظر کرنا ایسے ہی ہے جیسے خود اپنی ذات کا انکار کرنا۔ جیسے یہ حقیقت کہ ہم میں ہر ایک کو بالآخر اسی الٰہ واحد کے سامنے ہی جھکنا پڑتا ہے جس کی بادشاہی تمام جہانوں تک پھیلی ہوئی ہے۔ مگر افسوس ناک امر یہ ہے کہ جھکنے کا یہ معاملہ بعض اوقات اس قدر تاخیر اختیار کر جاتا ہے کہ سانس کی مہلت ختم ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مخبر صادق صلی اللہ علیہ وسلم نے اچانک موت سے پناہ طلب کرنے کی تلقین کی۔ یہاں سوچنا یہ ہے کہ سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے آخر یہ تاخیر ہوتی کیوں ہے۔۔۔۔؟؟

اللہ رب العزت  کے سامنے جھکنے میں تاخیر کا یہ معاملہ گو کہ کئی ایک وجوہات کی بنا پر ہے مگر ایک بڑی وجہ”گناہوں کو معمولی “ سمجھنا ہے۔ جب انسان اپنی لغزشوں کو بھی ادنیٰ سمجھنا شروع کر دیتا ہے تو یہ چیز اسے” توبہ “ جیسے عظیم عمل سے محروم کر دیتی ہے۔

ظاہری بات ہے کہ جب کسی گناہ کے”گناہ “ ہونے کا احساس ہی نہ رہے گا یا اسے بہت ہلکا سمجھا جائے گا تو پھر اس پر معافی تلافی کا معاملہ بھلا کیونکر سر انجام پا سکتا ہے ؟ گناہوں پر شرمندہ ہونا اور پھر اللہ کے سامنے جھکتے ہوئے معافی طلب کرنے کا معاملہ تو تب ہو کہ جب اپنے برے فعل کو”گناہ “ سمجھا جائے۔جب معاملہ اس کے برعکس ہو گا تو پھر کہاں کی معذرتیں اور کیسی توبہ۔۔۔؟؟

ہماری اس کیفیت کا اندازہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے خوب لگایا تھا، اگرچہ تب مخاطب اور لوگ تھے مگر ان کی یہ نصیحت ہمارے لیے ایک بہت اہم پیغام لیے ہوئے ہے۔ فرماتے ہیں؛

؛” تم لوگ کچھ ایسے اعمال کر بیٹھتے ہو جو تمہاری نظر میں بال سے بھی زیادہ باریک ہیں جبکہ ہم انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں [ موبقات ] ہلاک کر دینے والے کام شمار کرتے تھے “۔ [صحیح البخاری، ۶۱۲۷ ]۔

مومن کی کیفیت تو ایسی ہوتی ہے کہ کسی گناہ کے خیال سے ہی اس کی حالت خراب ہونا شروع ہو جائے چہ جائیکہ وہ عملِ بد سرانجام دیا جائے اور پھر اس پر بجائے شرمسار ہونے کے، بڑے مطمئن انداز میں زندگی گزاری جائے۔ اس حوالے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبار ک ہمیں سمجھانے کے لیے کافی ہے۔ فرمایا؛

؛” مومن گناہوں سے اس طرح ڈرتا ہے گویا کہ وہ کسی پہاڑ کے نیچے بیٹھا ہے اور اسے خطرہ ہے کہ یہ پہاڑ کہیں اس کے اوپر نہ آ گرے۔ [ دوسری طرف ] فاسق و فاجر آدمی گناہوں کو یوں سمجھتا ہے کہ جیسے ایک مکھی بیٹھ گئی ہو [ اور وہ اسے ہاتھ سے اڑا دے ] “۔

درحقیقت یہ معمولی سمجھے جانے والے گناہ ہی ہماری ہلاکت کا ایک بڑا سبب بنتے ہیں۔ اس لیے ہر خاص و عام کے لیے ناگزیر ہے کہ وہ ہر چھوٹے بڑے گناہ سے بچتے ہوئے زندگی گزارے اور اگر کوئی غلطی سرزد ہو جائے تو فورا اپنے رب کی طرف رجوع کرے کیونکہ یقینا اللہ معاف کرنے والا بھی ہے اور [ گناہوں پر لاپرواہی برتنے کے باعث ] عذاب سے دوچار کرنے والا بھی۔ جیسا کہ فرمایا؛

نَبِّئْ عِبَادِيْٓ اَنِّىْٓ اَنَا الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ

میرے بندوں کو خبر دے دو کہ میں بہت ہی بخشنے والا اور بڑا مہربان ہوں۔

وَاَنَّ عَذَابِيْ هُوَ الْعَذَابُ الْاَلِيْمُ

ساتھ ہی میرے عذاب بھی نہایت دردناک ہیں۔

باب العلم، ماہنامہ اخبارِ طلباء

Wednesday, March 6, 2013

اقبال کا تصورِ ملت

ہر مذہب اور مسلک کا ڈھانچہ ایک مخصوص عقیدہ کی بنیاد پر استوار ہوتا ہے۔ اس مذہب کے ماننے والوں کے لئے اس بنیادی عقیدے کو ماننا اور تسلیم کرنا  لازمی ہوتا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت، آخرت کی ابدی زندگی اور اللہ تعالیٰ کے تمام انبیاء کو ماننا لازم و ملزوم ہے۔ اللہ رب العزت نے وقتا فوقتا معاشرے کی اصلاح کے لئے جو انبیاء و رسل مبعوث کئے۔ سب کی دعوت کی بنیاد توحید تھی اور اس کے  بعد انفرادی اور اجتماعی معاملات کی اصلاح، یہ سلسلہ چلتا رہا اور بالآخر اللہ رب العزت نے محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی ٹھہرا کر قرآن مجید ان پہ نازل کیا۔ قرآن مجید نے لوگوں کو توحید کا درس دیا اور مسلمانوں کو ایک ملت بن کے رہنے کا حکم دیا۔ اسی طرح اقبال کے کلام کا ڈھانچہ بھی اسلام کی اجتماعی وحدت پر استوار تھا۔

اقبال، شاعر برائے شاعر نہیں تھے بلکہ ملت اسلامیہ کے عظیم مفکر کے طور پر ساری دنیا کے سامنے ابھرے اور مسلمانوں کی ناگفتہ بہ حالت اور غلامی سے چھٹکارے کے لئے بیدار کرتے اور عظمت رفتہ کو پانے کے لئے نصیحت کرتے رہے۔

اسی طرح اقبال کے مخالفین اعتراض کی شکل میں اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ اقبال صرف شاعر نہیں بلکہ ملت کے عظیم مصلح تھے۔ جیسے اقبال کے ایک ناقد جناب کلیم احمد  جو کہ مغرب کے بڑے دلدادہ  ہیں اپنی کتاب”اقبال۔ایک مطالعہ “ میں لکھتے ہیں؛

؛”اقبال شاعر تھے اور اچھے شاعر تھے اور وہ زیادہ اچھے شاعر ہو سکتے تھے اور اگر وہ صرف شاعر ہونے پر قناعت کرتے اور پیغمبر بننے پر مصر نہ ہوتے۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ اقبال ہمیں راہِ نجات دکھانے میں اس قدر منہمک ہو جاتے ہیں اور اس کام کو اس قدر اہم سمجھتے ہیں کہ اکثر شاعری کو پس پشت ڈال دیتے ہیں “۔

اقبال کے مخالفین نہیں جانتے کہ وہ تو مسلمانوں کو ملت کی چادر تلے اکٹھا کرنا چاہتے تھے۔

ملت      کے      ساتھ     رابطہ     استوار      رکھ

پیوستہ    رہ    شجر     سے    امید     بہار        رکھ

خلافت چونکہ مسلمانوں کی اجتماعیت اور ملت کی نشانی ہوتی ہے۔ خلافت راشدہ کے بعد اموی، عباسی اور عثمانی خلافتوں میں ساری دنیا کے مسلمان ان حکومتوں کو اپنی مرکزی حکومت مانتے تھے اور انہی سے امید لگاتے تھے۔ جب تک خلافت کسی نہ کسی صورت میں قائم رہی تو مسلمانوں کی مرکزیت قائم تھی اور اقبال خلافت اسلامیہ کے زبردست حامی تھے۔

ساری دنیا کے مسلمانوں کا تصور ایک ملت کے طور پر موجود تھا لیکن جب خلافت ختم ہوئی تو اس کے بعد مسلمانوں میں وطن پرستی اور ملت سے دوری کی سازشیں گہری ہوتی چلی گئیں۔ اسی وجہ سے اقبال نے خلافت عثمانیہ ختم ہونے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے اسے ترکوں کی نادانی اور اسلام و مسلمان دشمنوں کی گہری سازش قرار دیا۔

چاک    کر    دی    ترکِ    ناداں      نے      خلافت    کی    قبا

سادگی    اپنوں    کی    دیکھ    اوروں    کی    عیاری    بھی    دیکھ

اسی جذبے سے سرشار اقبال نے اپنے بعض دوستوں کو علمی اور ادبی خطوط لکھے اور اپنے زمانے کےبعض مسلمان سربراہوں اور آزادی و حریت کے متوالوں کے نام قصیدے اور قطعات لکھے جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ ان کے دل میں جو اسلام کی محبت تھی، اس کے تائو پیج سے وہ آخری دم تک بے قرار رہے۔

مصر کے بادشاہ فواد، عراق کے بادشاہ فیصل اور سعودی عرب کے سلطان عبدالعزیز ابن سعود کو احساس دلاتے ہیں کہ دھویں کی طرح بے مقصد لڑنے سے فائدہ نہیں، اپنی زمین سے خالد اور عمر پیدا کرو۔

احسان اللہ خان والئی افغانستان کو مشورہ دیتے ہیں کہ اسلامی نظام جاری کرنے میں دیر نہ کرے، اس سے قبل کہ بادِ صبا صحرا کے پھولوں کو چومتے ہوئے گزرے۔

تقسیم ہند کے وقت اقبال مسلمانانِ ہند  کے ساتھ دو قومی نظریے کے حامی تھے اور اسی کی بنیاد پر پاکستان عالم وجود میں آیا۔ علامہ اقبال جب بسترِ علالت پر تھے، اس وقت ایک بڑا دلچسپ واقعہ پیش آیا کہ مولانا حسین احمد مدنی جو کہ مسلمانوں کے ہندوستان میں رہنے کے حامی تھے نے دہلی میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کو ہندوستان میں رہنا چاہئے کیونکہ یہ ان کا پیدائشی ملک ہے اور وہ ہندوستانی ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ قومیں اوطان سے بنتی ہیں۔ اقبال کو یہ بات پسند نہ آئی۔ انہوں نے مولانا کی اس سوچ کے خلاف اشعار کا ایک قطعہ لکھ کر اخبارات میں شائع کروا دیا جس کے بعد ایک بڑا علمی، مذہبی اور سیاسی مباحثہ شروع ہوا۔

اس مسئلے پر اقبال کی زندگی اور اس کے بعد بھی بحث چلتی رہی۔ اس سلسلے میں اقبال کے فرزند ڈاکٹر جاوید اقبال نے اپنے والدِ محترم کو تصور میں لے کر خط لکھے جن سے ہمیں اقبال کے ملت کے تصور کو جاننے میں بڑی مدد ملے گی۔ ڈاکٹر جاوید اقبال نے اپنی کتاب” اپنا گریبان چاک “ میں” دوسرا خط “ کے عنوان سے جو خط لکھا، اس سے کچھ اقتباس ہم آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں۔

ڈاکٹر جاوید اقبال لکھتے ہیں؛

والد مکرم السلام علیکم

ہم مسلمانوں کے قومی تشخص کے بارے میں آپ کی جو بحث مولانا حسین احمد مدنی کے ساتھ ہوئی۔ ان کا موقف تھا کہ قومیں اوطان سے بنتی ہیں۔ لہٰذا مسلمانوں کی قومیت ہندی ہے۔ آپ نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ” قوم “ اور” ملت “ کے ایک ہی معنی ہیں۔ مسلم قوم وطن سے نہیں بلکہ” اشتراکِ ایمان “ سے بنتی ہے۔ اپنے نظریہ کی وضاحت کرتے ہوئے آپ نے چند مثالیں بھی دی تھیں یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر اپنے آبائی وطن سے ہجرت نہ کرتے اور کفار کے ساتھ تصفیہ کر لیتے کہ نسل، زبان اور علاقے کے اشتراک کی بنا پر ایک ہوتے ہوئے وہ اپنے خدائوں کی پرستش جاری رکھیں اور مسلمان اپنے خدا کی عبادت کرتے رہیں گے تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پہلےنیشنلسٹ قرار پاتے۔ مدینہ ہجرت کرنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین اور انصار کو اشتراکِ ایمان کی بنیاد پر ایک ملت، امت ،یا قوم بنایا۔

پس ملتِ اسلامیہ اشتراک وطن سے نہیں بلکہ اشتراکِ ایمان سے بنتی ہے “۔

ایک اور جگہ ڈاکٹر جاوید اقبال لکھتے ہیں؛

؛”آپ نے اشتراکِ ایمان کی بنیاد پر مسلم قومیت کا تصور پیش کر کے برصغیر میں” دو قومی نظریہ “ کی حقیقت کو تقویت بخشی۔ چنانچہ مسلم قوم وجود میں آئی اور پھر اس قوم کے لئے وطن بصورت پاکستان حاصل کر لیا گیا۔ بلکہ کشمیر کو پاکستان کا حصہ سمجھنے میں بھی یہی جذبہ کام کر رہا ہے۔ پاکستان ایک اسلامی نظریاتی ریاست کے طور پہ سامنے آیا اور اپنی اسی نظریاتی اساس کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے پاکستان نے اقوام متحدہ میں مسلم امہ کی کوکھ سے نکلی ہوئی کئی قومی ریاستوں کی نوآبادیاتی طاقتوں سے آزادی کی خاطر تگ و دو میں حصہ لیا۔ فلسطین کی آزادی اور کشمیر کے مسئلہ کے حل کے لئے کوششیں جاری رکھیں۔ افغانستان سے غیر مسلم حملہ آوروں کو نکالنے کے لیے پاکستان نے افغان مجاہدین کے شانہ بشانہ حصہ لیا۔ بعد ازاں پاکستان ہی کی مدد سے وہاں اسلامی حکومت قائم ہوئی اور اسے تسلیم کیا گیا۔ “۔

ملت بیضا کی بنیاد لا الہٰ کو قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں؛

ملت    بیضا    تن    و    جاں    لاالہٰ

ساز    سارا    پردہ    گراں      لاالہٰ

لاالہٰ        سرمایئہ       اسرارِ        ما

رشتہ    اس    شیرازہ     افکارِ       ما

ترجمہ؛” ملتِ بیضا [ اسلام ] بدن ہے اور توحید اس کے اندر روح ہے۔لاالہٰ کے ساز سے ہمارے نغموں میں ہم آہنگی موجود ہے۔ لاالہٰ ہمارے روحانی اسرار کا سرمایہ ہے۔ اس سے ہمارے افکار کی شیرازہ بندی ہے “۔

اقبال نے اپنے اعلیٰ افکار کو اپنی شاعری کے ذریعے پھیلایا۔ وہ ساری دنیا کے مسلم خطوں، علاقوں کو اپنی شاعری کے اندر تذکرہ کر کے وحدت و یگانگت کا پیغام دیتے ہیں۔ جیسے نظم صقلیہ میں وہ بغداد اور غرناطہ کے علاوہ وہلی کی تباہی و بربادی پر بھی ماتم کرتے ہیں۔

نالہ    کس    شیراز    کا     بلبل    ہوا    بغداد    پر

داغ    رویا    خون    کے    آنسو    جہاں    آباد   پر

آسمان    نے    دولت    غرناطہ    جب    برباد     کی

ابن    بدروں    کے    دل    ناشاد    نے    فریاد  کی

غم    نصیب    اقبال    کو    بخشا    گیا    ماتم     تیرا

چن   لیا   تقدیر  نے  وہ   دل   کہ    تھا  محرم   تیرا

اسی طرح بانگ دراء کی نظم”بلاد اسلامیہ “ میں ساری دنیا کے مسلمانوں کو ایک ملت کا تصور دیتے ہوئے دنیا کے اسلامی شہروں کا تذکرہ کرتے ہیں۔ مثلا دلی، بغداد، قرطبہ، قسطنطینیہ اور خواب گاہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم یعنی مدینہ منورہ۔

جہاں    میں    اہل    ایمان    صورت    خورشید     جیتے     ہیں

اِدھر    ڈوبے    ادھر    نکلے    ،    اُدھر   ڈوبے    اِدھر    نکلے

جس طرح اسلام لازوال ہے، اسی طرح ملت اسلامیہ لافانی ہے۔ دونوں میں ایک قانونِ قدرت ہے اور دوسرا مظہر فطرت۔ جیسے آفتاب عالم تاب جو ہمیشہ ہی چمکتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کا غروب بھی طلوع ہی کی ایک شکل ہے۔ ایک افق پر ڈوبتا ہے تو دوسرے پر نکلتا ہے۔

کچھ لوگ اقبال کے وطنیت کے شعر پیش کر کے اقبال کے تصور ملت کو کیا سے کیا بنا دیتے ہیں۔ غور کرنا چاہئے کہ جو شخص بار بار ایک ہی پیغام کی تکرار کرتا ہو، اس کے یہاں تضاد نہیں ہو گا، اور اگر تضاد ہے تو یقینا وہ ایک نئی خاص اور اہم بات ہے۔ مثلا یہی کہ اقبال نے اپنے ابتدائی دور میں بعض وقت وطنیت کا اظہار کیا تھا۔ مگر اس کے بعد وہ آفاقیت اور اسلامیت کا پرچار کرنے لگے۔ اس سے قطع نظر کہ اسلامیت بہر حال ایک عالمی بین الاقوامی اور آفاقی اصول ہے جبکہ وطنیت بالکل مقامی علاقائی اور محدود قسم کا تصور ہے۔ یہ بات سرے سے ہی حقیقت کے خلاف اور لغو ہے۔

اقبال اپنی شاعری کے کسی بھی دور میں وطن کے پجاری نہیں رہے اور بعد میں وطن کے مخالف ہو گئے۔ واقعہ یہ ہے کہ وہ وطن دوست ہمیشہ رہے۔ شروع سے آخر تک اور وطن پرست کبھی نہ تھے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ فطری طور پر ان کے ذہن کی وسعتیں بڑھتی گئیں اور وہ قرآن سے راہنمائی حاصل کر کے روز بروز آفاقیت کی طرف مائل ہوتے گئے۔

اقبال یہ ضروری سمجھتے تھے کہ ہندوستان اور دوسرے ایشیائی ممالک اور افریقی ممالک برطانوی اور یورپی سامراج سے آزاد ہوں اور اس کے لیے ایک فکری انقلاب ضروری سمجھتے تھے، وہ یہ تھا کہ دنیا مغربی مادیت کے ہاتھوں برباد ہو چکی اور یورپی و کلیسائی اخلاق نے انسانیات کو روبہ زوال کر دیا ہے۔ لہٰذا سرمایہ داری و اشتراکیت کے بعد دونوں کی داشتہ جمہوریت سے مختلف ایک ایسا نظریہ درکار ہے جو حقیقی روحانیت کو پوری دنیا میں ابھار کر مادیت کو  صحیح رخ پہ لگا دے اور آج کے انسان کو ایسے اخلاق سے آراستہ کرے جو اسے جدید ترین آلات و وسائل کا بہتر استعمال سکھا سکیں اور ضروری ہے کہ یہ نظریہ صرف روحانیت اور اخلاقیات کا کوئی صوفیانہ تصور نہ ہو بلکہ ایک کلی، جامع، ٹھوس اور عمل ضابطہ فکر اور نظام حیات ہو جو کائنات و حیات اور فکر و عمل کی تمام جہتوں کے لئے بہترین عقائد اور صالح ترین اعمال کی ضمانت دے سکے۔

یہ نظریہ اقبال کے خیال میں صرف اسلام ہے، کسی فرقے کے مذہب کے طور پر نہیں بلکہ پوری انسانیت کے  مذہب کے طور پر نہیں بلکہ پوری انسانیت کے نظریے اور نظام، فلفسہ حیات اور طریق زندگی کے طور پر ہے۔ اسی لیے اقبال کے توحید اور اسی کے تحت وحدیت پر بہت زور دیا۔ اب اقبال کا مطالعہ  بجا طور پر یہ تھا کہ اسلامی توحید کا آفتاب دورِ حاضر کی ظلمتوں میں مشرق سے ہی طلوع ہو سکتا ہے۔ اس کے لیے مغربی افق بالکل تاریک ہو چکی ہے۔ بلکہ وہی تاریکی کا منبع ہے۔

اقبال نے ضرب کلیم اور بانگ درا کے جن اشعار میں ہندوستان سے محبت کا اظہار کیا ہے، وہیں اسی خاک کو خاور کی امیدوں کا مرکز قرار دیا ہے۔ اقبال کے وطن پرست ہونے اور وطن پرست نہ ہونے کا حسین منظر آپ یہاں دیکھ سکتے ہیں۔ ایک فکری مرتب اور متوازن نقطئہ نظر ہے اور اس کا ہی اظہار اقبال کے ابتدائی دور کے ترانہ ہندی اور ترانہ ملی میں ہوا تھا۔

غور کریں تو؛

سارے    جہاں    سے    اچھا    ہندوستان    ہمارا

اور

چین    و    عرب     ہمارا       ہندوستان        ہمارا

کے درمیان کوئی تضاد نہیں ہے۔ اس لیے کہ؛

مسلم    ہیں    ہم    وطن    ہیں   سارا    جہاں  ہمارا

ایک طرف ترانہ ہندی میں کہا؛

اے    آبِ    رودِ    گنگا    وہ    دن    ہیں    یاد    تجھ    کو

اترا       تیرے       کنارے       جب       کارواں       ہمارا

دوسری طرف ترانہ ملی میں کہا؛

اے    موج    دجلہ    تو    بھی    پہچانتی    ہے    ہم    کو

اب    تک    ہے    ترا    دریا      فسانہ      خواب      ہمارا

بات یہ ہے کہ ہر ملک ملک ماست کہ ملک خدائے ماست، موج اسلام ہر جگہ بلا امتیاز رواں ہے۔

اس    کی    زمین    بے    حدود    ،    اس    کا    افق   بے    تغور؟

اس    کے    سمند    کی  طرح   موج  ،   دجلہ   و   دنیوب   و  نیل

؛[مسجدِ قرطبہ، بال جبریل]۔

اس آفاقی منصوبہ انقلاب میں اقبال کے نزدیک مشرق اور اس میں ملت اسلامیہ کی حیثیت و اہمیت اور مغو ویت یہ ہے؛

ربط    و    ضبط    ملت    بیضا    ہے    مشرقی     کی     نجات

ایشیا    والے    ہیں    اس    نقطے    سے   اب   تک   بےخبر

اقبال وحدت کے علمبردار تھے اور ان کے نزدیک اسلامی توحید اس آفاقی نصب العین کے حصول کا واحد ذریعہ تھی۔

اس    دور    میں    اقوام    کی    محبت    بھی    ہوتی    ہے    عام

پوشیدہ        نگاہوں           سے           رہی          وحدت       آدم

تفریق         ملت           حکمت           افرنگ           کا       مقصود

اسلام            کا             مقصود           فقط           ملت           آدم

مکے    نے        دیا         خاک        جنیوا        کو        یہ        پیغام

جمعیت              اقوام                  یا               جمعیت               آدم

؛[مکہ اور جنیوا۔ ضرب کلیم]۔

یہاں پر صرف چند حوالوں اور اشاروں پر ہی گزارہ کیا گیا ہے لیکن یہ بات طے ہے کہ اقبال توحید اور ایمان کی بنیاد پر مسلمانوں کو اکٹھا دیکھنا چاہتے تھے اور ان کے کلام میں اس بات پر تکرار پایا جاتا ہے۔ زندگی میں تو وہ یہ نصیحت کرتے ہی تھے مگر دنیا سے رخصتی کے بعد بھی ان کی یہ تلقین جاری ہے۔

نہ     افغانیم    و     نہ     ترک    و     تاتاریم

چمن    نرادیم    و         ازیک         شاخساریم

تمیزِ    رنگ       و    بو    بر    ماحرام     است

کہ       ماپروردہ       یک          نو        بہاریم

ترجمہ:” ہم نہ افغان ہیں نہ ترک و تاتار۔ ہم تو اسلام کے چمن میں پیدا ہوئے ہیں اور ہمارا اصل ایک ہی شاخ اسلام سے ہے۔ اس لیے ہم پر رنگ و نسل کے امتیازات حرام ہیں “۔

تحریر؛ مسعود احمد غازی

ماہنامہ اخبارِ طلباء

Tuesday, March 5, 2013

بچھو اور بزرگ ، علی عمران شاہین، تحریر ہفت روزہ جرار

کہانی مشہور ہے کہ ایک بزرگ نہر کنارے بیٹحے تھے۔ ایک بچھو کو پانی میں بہتے دیکھا تو اسے ہاتھ ڈال کر باہر نکالا۔ بچھو کو ہاتھ لگانے کی دیر تھی کہ اس نے بزرگ کو ڈنک دے مارا۔ انہوں نے ہاتھ جھٹکا، بچھو دور جا گرا اور ایک بار پھر چلتا چلتا پانی میں داخل ہونے لگا۔ بزرگ نے اسے پھر پانی میں جانے سے روکنے کے لئے ہاتھ آگے بڑھایا اور اسے پیچھے دھکیلا۔ اس بار پھر بھی وہی ہوا کہ بچھو نے حسب عادت ڈنک دے مارا اور پھر بہتے پانی کی جانب بڑھنے لگا۔ بزرگ نے پھر اسے روکنے کی کوشش کی تو پاس موجود کسی سیانے نے کہا کہ آپ کیوں اسے روک رہے ہیں جبکہ وہ آپ کو ڈنک پر ڈنک بھی مار رہا ہے؟ بزرگ گویا ہوئے کہ” بچھو کا کام ڈنک مارنا ہے جو غلط ہے لیکن میرا کام اسے بچانا ہے، اگر غلط کام نہیں چھوڑتا تو میں صحیح کام کیوں چھوڑوں۔۔۔۔؟ “۔

داستان اگرچہ خوبصور ہے لیکن اسے اگر بچھو سے منسوب نہ کیا جاتا تو اچھا تھا کیونکہ ہم تو سب سے پہلے مسلمان ہیں اور ہمارا اسلام بچھو اور بچھو جیسے تمام موذی حشرات و حیوانات کو بچانے نہیں، مارنے کا حکم دیتا ہے۔۔۔۔اور دوسرے یہ کہ۔۔۔۔یہ ایسی داستان ہے کہ جو محض فرضی ہے۔ اسی لئے تو آج تک ہم نے کبھی نہیں سنا کہ کسی نے اس پر ہو بہو عمل کرنے کی کوشش کی ہو لیکن کمال دیکھیے کہ آج کی دنیا میں کچھ ایسے لوگ ضرور موجود ہیں کہ جو ڈنک کھاتے اور اس موذی حیوان کو ہر صورت بچانے کے درپے ہیں۔ اس موذی جانور نے سب سے پہلے اور سب سے بڑا ڈنک اپنے اس محسن کو۱۹۴۷ میں مارا پھر۱۹۴۶میں ، اس کے بعد مسلسل ۶۵سال میں ہزاروں ڈنک مارے۔ حد تو یہ ہوئی کہ ۱۹۷۱میں بچانے والے کے جسم کے دو ٹکڑے کر دیئے۔ اس کی شہہ رگ تو وہ پہلے ہی دبا کر بیٹھا تھا کہ ۱۹۸۴میں اس کے”سر “ سیاچن پر پھر بھی قبضہ کر لیا۔ گزشتہ ۱۰ سال سے وہ اپنے بچانے والے کے جسم میں رواں خون و پانی نچوڑ رہا ہے تو ساتھ ہی ساتھ جسم پر بھی ڈنک لگا رہا ہے۔۔۔پھر  بھی گزشتہ ڈیڑھ سال سے اس بزرگ نے اپنے جسم کو زہر سے بھرنے والے بچھو کو مزید توانا و طاقتور بنانے کے لئے اسے” پسندیدہ ترین قوم “ کا درجہ دے کر اس کے ساتھ تمام تر تجارت کھولنے کا فیصلہ سنا دیا۔

آس پاس کھڑے بے شمار لوگ چیختے چلاتے رہے اور آج بھی چیخ چلا رہے ہیں کہ ایسا نہ کرو۔ جو کہانی تم نے سن رکھی ہے، اس کی حقیقت اور اصل کچھ بھی نہیں لیکن جناب یہ حضرت بزرگ ماننے کے لئے تیار نہیں تھے اور خود کو عقل کل سمجھ کر”میں نہ مانوں “ کو اپنی ضد قرار دے بیٹھے تھے۔۔۔پھر یہ کیا ہوا؟ کہ جب وقت مقررہ آیتا تو بچھو نے ڈنک پر ڈنک مارنے شروع کر دیئے۔ کشمیر کی کنٹرول لائن پر ہمارے سجیلے جوان شہید کئے اور پھر ہمارے اوپر الزام دھر دیا کہ ہم نے اس کے دو فوجی مار کر ایک کا سر کاٹ لیا ہے۔۔۔اب اس نے آئو دیکھا نہ تائو۔۔۔پاکستان پر چڑھ دوڑا۔ منہ سے جھاگ اڑنے لگی۔ اپنے گھر میں بیٹھے پاکستانی مہمانوں کو دھکے دے کر نکال دیا۔ وہ ہاکی کے کھلاڑی بھی تھے، کچھ اسی کی لائن کے اس کے پسندیدہ ترین میراثی بھی تھے اور کچھ وہی تاجر بھی کہ جو اس بچھو کے برسوں سے گن گا رہے تھے کہ ہمیں باہم تجارت سے بہت فائدہ ہو گا۔۔۔پھر واہگہ سرحد پر بوڑھوں کو پہلی بار ہی ویزا دینے سے انکار کر کے معاہدہ ہی اڑا دیا۔۔۔۔دنیا ہکا بکا تھی کہ یہ بچھو کیا کر رہا ہے۔۔۔۔؟ وہ تو اپنی تباہی کا سامان اپنے ہاتھوں کر رہا ہے لیکن دنیا کو یہ بھی تو پتہ ہونا چاہئے کہ بچھو کی پیدائش کے بارے میں روایت مشہور ہے کہ یہ اپنی ماں کا پیٹ پھاڑ کر اور اسے کھا کر باہر آتے ہیں اور ان کی پیدائش کے ساتھ ان کی اپنی ماں کا کریا کرم اپنے بچوں کے ہاتھوں ہوتا ہے تو بھلا ایسی مخلوق کسی دوسرے کو کیا فائدہ پہنچائے گی۔۔۔۔؟

ہمارے اوپر سر کاٹنے کے الزام لگانے والوں کو اپنا حال تو معلوم ہی نہیں۔۔۔۔؟ کہ ان کے ایک بڑے” خدا “ کا نام” اگنی “ ہے جس کا مطلب ہی” آگ والا “ بلکہ آگ سے جلانے والا ہے۔ دنیا میں انسانوں کو آگ میں جلا کر مارنے کی سب سے بڑی روایت و رواج انہی بچھو ہندوئوں کے اندر ہے جو اس بچھو کے بھی پجاری ہیں۔ انہوں نے قیام پاکستان کے دوران دس لاکھ سے زائد مسلمانوں کو کیسے کیسے بدترین طریقوں سے مار مار کر جلایا بھی تھا۔

چلئے یہ تو” پرانی “ داستانیں ہیں۔ اس کے بعد ہونے والے ۶۰ہزار مسلم کش فسادات اور پھر ان میں مسلمانوں کا قتل عام، عصمت دریاں جلائو گھیرائو۔۔لوٹ مار۔۔۔آج بھی دنیا میں سب سے زیادہ اور بدترین مظالم بھارت میں مسلمانوں پر ڈھائے جا رہے ہیں۔ ۲۰۰۲میں بھارتی گجرات میں ۲۸فروری سے۵اپریل۲۰۰۲تک مسلسل۴۰دن مسلمانوں کے ساتھ بدترین حیوانی کھیل کھیلا گیا تھا، وہ دنیا کو یاد ہو نہ ہو، مسلمانوں کو بخوبی یاد ہے۔ کیا کوئی یہ تصور کر سکتا ہے کہ ایک عورت ذات اٹھ کر مردوں کو اس بات کی ترغیب دے اور سر پر کھڑی ہو کر ان کی حوصلہ افزائی کے نعرے لگائے کہ وہ ہندو ہیں تو مسلمانوں کی خوب خوب عصمت دری کریں، اور پھر ان کے نازک حصوں میں پتھر، لکڑیاں، سریے ، گھسیڑ دیں، ان کے نازک حصے چھریوں، چاقوئوں اور تلواروں سے کاٹ کر ان کے جسم چاک کر دیں۔ بھارتی گجرات میں یہ کچھ بھی ہوا۔ گزشتہ ہفتے [ قبل۲۵جنوری۲۰۱۳] بھارتی مسلم میڈیا نے چشم دید واقعات کے ساتھ درددل بیان کیا۔

بڑودہ شہر کے ضلع اٹلاداری کے لوگ آج بھی بتاتے ہیں کہ وہاں کی خاتوں سرنیچ کانٹابین سنا بھائی نے قتل عام میں خود حصہ لیا تھا۔ آگ لگائی اور ہندو بدمعاشوں کو عصمت دریوں کی ترغیب دی تھی۔ بڑودہ کے ای۔ایس۔ائی۔ ہسپتال حلقہ کی۔یی۔جے۔پی۔ کے رپورٹر کانچابین بروٹ نے تلوار سے خود کئی مسلمان قتل کئے تھے۔ باجواگائوں کی جیابین ٹھاکر نے بھی یہی کچھ کیا تھا۔

گجرات کا ایک گائوں ترسالی ہے۔ سنگھ پریوار کے تربیت یافتہ دہشت گردوں نے وہاں بہادت شاہ ظفر کے بیٹو کو سرپیش کرنے کی یوں تاریخ زندہ کی کہ ہندو علاقے کے ایک بوڑھے کے گھر پہنچے اور مذاق کرنے لگے کہ اسے یقینا بھوک لگی ہو گی کیونکہ کئی روز سے ان کے علاقے میں مکمل کنٹرول و قبضہ تھا۔ ساتھ ہی انہوں نے ایک تھال منگوایا کہ اس میں اس کے لئے ناشتہ ہے۔ جب بھوک سے نڈھال بوڑھے نے تھال سے کپڑا ہٹایا تو نیچے اس کے بیٹے کا کٹا ہوا سر پڑا تھا۔ ذرا سوچئے، کہ اس بوڑھے پر یہ منظر دیکھ کر کیا گزری ہو گی۔۔۔۔؟ بہادر شاہ ظفر کی تو بیٹوں کے سر پیش کرنے کے بعد جاں بخشی ہو گئی تھی لیکن اس بوڑھے کی جاں بخشی نہ ہوئی اور اسے بھی وہیں قتل کر کے اس کا سر بھی جسم سے الگ کر دیا گیا۔

گجرات میں لاکھوں مسلمانوں پر گزرے اس سانحہ کی ہزاروں داستانیں ہیں اور ہر داستان ایک دوسرے سے بڑھ کر خوفناک و دل دہلا دینے والی ہے۔ گجرات کے۵۰ہزار مسلمان آج بھی انتہائی کسمپرسی کی حالت میں جگہ جگہ گل سڑ رہے ہیں اور کیڑے مکوڑوں جیسی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ عالمی ذرائع ابلاغ بشمول بی۔بی۔سی۔ کے مطابق یہاں۳۰۰سے زائد مساجد بھی گرائی گئی تھیں۔

مسلمانوں کے ہزاروں گھروں پر اور بے شمار املاک و زمینوں پر ہندوئوں نے قبضہ جمایا تھا جو آج بھی قائم ہے لیکن جب اقوام متحدہ کو چند مسلمانوں نے بار بار جھنجھوڑا تو اقوام متحدہ نے بھارت کے سامنے ایک مریل سی آواز نکالی کہ ان فسادات کی رپورٹ دو۔۔۔خدا خدا کر کے دسمبر۲۰۰۹ میں بھارت نے محض۷صفحات پر مشتمل رپورٹ دی جس میں لکھا تھا کہ یہاں۱۹خواتین سے زیادتی ہوئی۔ کل۱۶۹افرد ہلاک ہوئے اور ان کے مقدمات اب کھول دیے گئے ہیں۔ یوں اس کے بعد نہ اقوام متحدہ ے اس پر بحث کی، نہ کوئی مزید مطالبہ ہوا، نہ کوئی آواز بلند ہوئی۔۔۔یوں یہ کہانی یہیں ختم ہو گئی۔ گزشتہ سال بھارتی آسام میں پانچ لاکھ مسلمانوں پر کیا قیامت گزری لیکن کسی کو کوئی فکر نہیں۔ ہاں البتہ۔۔۔اگر بھارت پاکستان پر ایک فوجی کے سر کاٹنے کا الزام ہی عائد کر دے تو زمین آسمان ایک کر دیا جاتا ہے ۔ بھارتی وزیراعظم کے منہ سے بار بار وہ کف اچھلتی ہے کہ وہ ساری دنیا کے چہرے آلودہ کرتی ہے۔ ان کے سارے حکومتی کار پردازان، حزب اختلاف، فوجی سربراہان، عوام، میڈیا اور سبھی ادارے ایک ہو جاتے ہیں کہ پاکستان مجرم،۔۔۔۔۔۔اسی کو سزا دو۔۔۔۔اسے ٹھکانے لگائو۔۔۔۔۔اسے سولی چڑھائو۔۔۔۔۔آگ لگائو۔۔۔۔۔اس کی تکہ بوٹی اڑائو۔۔۔۔اور یہاں ہمارے ہاں ایک ہی گردان کہ” ہم امن کی فاختائیں ہیں “۔۔۔۔ہمارے ساتھ جو چاہو کرو۔۔۔۔لیکن یہ مان لو کہ ہم تمہیں ہر صورت بچا کر رہیں گے، ہمارے ساتھ جو ہوتا ہے ہو جائے۔۔۔۔لیکن یوں بار بار اور ہزاروں بار ڈنک کھانے والوں سے عرض ہے کہ ڈنک کھانے سے زندگی نہیں موت ملتی ہے اور ڈنک مارنے والے کو کچلنے سے زندگی کی حفاظت ہوتی ہے۔

Wednesday, February 20, 2013

اور اللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں سے بچائے گا

وہ دونوں آدمی مدینہ میں داخل ہوئے اور لوگوں سے پوچھتے مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم تک جا پہنچے۔ مسجد میں بہت سے لوگ جمع تھے ان کا مطلوبہ آدمی کونسا ہے۔ ان کے لیے یہ پہچاننا بہت مشکل ہو گیا۔ آنے والے عرب کی سرزمین کے لوگ نہ تھے اس لئے اپنے حلئے سے ہی پہچانے گئے کہ مہمان ہیں۔صحابہ رضی اللہ عنہم نے انہیں خوش آمدید کہا اور آنے کا مقصد پوچھا۔

ایک یمنی نے کہا” ہمیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنا ہے “۔

صحابی انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے۔ پہلے آنے والوں کی ضیافت کی گئی اور پھر پوچھا گیا کہ ان کی آمد کیسے ہوئی؟

یمنی نے جواب دیا” ہم یمن کے باشندے ہیں اور سرکاری آدمی ہیں۔ ہمارے بادشاہ نے حکم دیا ہے کہ حجاز میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم نامی کوئی آدمی ہے اسے گرفتار کر کے میرے سامنے پہنچایا جائے۔ ہم بادشاہ کے اسی حکم کی تعمیل کے لئے آئے ہیں۔ لہٰذا آپ ہمارے ساتھ چلیئے۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ساری بات تحمل سے سنی۔ جب وہ گفتگو کر چکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا” آپ لوگ تھکے ماندے ہیں لہٰذا آرام کریں ہم اس موضوع پر صبح بات کریں گے “۔ آنے والے دونوں آدمیوں نے رضا مندی کا اظہار کیا اور یوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے حجرہ مبارک میں چلے گئے۔

یہ سات ہجری کے شروع کی بات ہے۔ جب مدینہ کے مسلمانوں اور مکہ کے مشرکوں کے درمیان جنگ نہ کرنے کا معاہدہ ہوا تو پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر دور دراز کے ملکوں کےبادشاہوں کو اسلام کی دعوت دینے کا منصوبہ بنایا۔ پیارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہر بنوائی جس پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لکھا ہوا تھا۔ یہ آپ کی انگوٹھی مبارکہ پر تھی۔

پیارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام بادشاہوں کو خط لکھے جس میں اسلام قبول کرنے کی دعوت دی۔ یہ خط آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف صحابیوں کے ہاتھوں بادشاہوں تک پہنچائے۔ پیارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خط کسریٰ کے بادشاہ کے نام بھی لکھا۔ اس زمانے میں دنیا بھر میں دو بڑی قوتوں کا بڑا نام تھا ایک کسریٰ اور دوسری قیصر۔۔۔

کسریٰ کسی بادشاہ کا نام نہ تھا بلکہ ایران کا جو بھی  بادشاہ ہوتا اسے کسریٰ کہا جاتا تھا۔ ایران ان دنوں بہت بڑا ملک تھا اور اس کی حکومت بڑی دور دور تک پھیلی ہوئی تھی۔ ایرانی بادشاہ کی بہت بڑی فوج تھی جس کی وجہ سے اس کی دھاک چھوٹے بڑے تمام ملکوں پر بیٹھی ہوئی تھی۔

پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بادشاہ کے لئے جس کا نام” خسرو “ تھا، خط لکھا۔

محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کسریٰ عظیم فارس کی جانب!اس شخص پر سلام ہو جو ہدایت پر چلے گا اور اللہ اور اس کےر سول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے گا اور اس بات کی گواہی دے گا کہ اللہ کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔

میں تمہیں اللہ کی طرف بلاتا ہوں۔ کیونکہ میں تمام انسانوں کی طرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجا گیا ہوں۔ تا کہ ہر زندہ شخص کو اس کے برے انجام سے ڈرایا جائے اور جو ان باتوں کا انکار کریں[کافر]تو ان پر حق بات سچی ہو جائے۔ اس لئے تم اسلام قبول کر لو تا کہ تم سلامت رہو اور اگر تم نے اسلام قبول کرنے سے انکار کیا تو؟

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پہ خط لکھوا کر اس پر مہر نبوت لگائی اور پھر اپنے صحابہ میں سے پیارے صحابی سیدنا عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ کا انتخاب کیا۔

پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو بلایا اور ہدایات دے کر کسریٰ کی طرف روانہ کیا۔

سیدنا عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خط لے کر ایران پہنچے اور ایک روز دربار میں جا کر خسرو بادشاہ کو خط دیا۔ خسرو اپنے تخت پر بیٹھا تھا۔ اس کا انداز تکبرانہ تھا۔ جب خسرو کو خط پڑھ کر سنایا اور ترجمہ کرنے والے نے اپنی زبان میں اس کو بتایا تو وہ غصہ سے تخت پر کھڑا ہو گیا۔ وہ اسی تکبر سے سخت لہجے میں بولا؛

؛”میری رعایا میں سے ایک کم درجے کا غلام خط لکھتے ہوئے اپنا نام میرے نام سے پہلے لکھتا ہے “۔

یہ کہتے ہوئے اس نے شاہی مترجم کو کہا کہ یہ خط مجھے دیا جائے۔ مترجم نے خط بادشاہ کو دیا تو اس نے غصے سے خط کو پھاڑ کر ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا۔

خسرو نے اسی وقت خط لکھنے والے شاہی آدمی کو طلب کیا اور اسے کہا کہ یمن کے گورنر کے نام ہمارا حکم نامہ لکھو کہ حجاز کے جس آدمی نے ہمیں یہ خط لکھا ہے اسے گرفتار کر کے میرے دربار میں پیش کیا جائے۔

یمن کے گورنر نے فورا بادشاہ کے حکم کی تکمیل کے لیے دو آدمی تیار کیے اور اسے مدینہ کی طرف روانہ کر دیا اور کہا کہ شاہ کسریٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے دربار میں بلایا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گرفتار کر کے لایاجائے۔

حکم پاتے ہی دونوں آدمی مدینہ کی طرف چل دیئے۔ ادھر پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ رب العزت نے وحی کے ذریعے خبر دے دی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خط کو بادشاہ نے پھاڑ کر ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی کہ اللہ خط پھاڑنے والے کی بادشاہت کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے۔

ان دنوں قیصر کی فوجوں اور کسریٰ کی فوجوں کے درمیان جنگ ہو رہی تھی اور قیصر کی فوج مسلسل کسریٰ کی فوج کو شکست دے کر ان کے علاقوں پر قبضہ جما رہی تھی۔ پے در پے ہونے والی ان شکستوں کی وجہ سے دربار اور خود بادشاہ کے گھر کے اندر بغاوت پیدا ہو گئی تھی۔ ایک رات خسرو بادشاہ اپنی خواب گاہ میں سویا ہوا تھا کہ رات کے اندھیرے میں اس کا بیٹا شیرویہ خواب گاہ میں داخل ہوا اور اس نے اپنے باپ کو قتل کر کے تخت پر قبضہ جما لیا۔

یہ خبر اللہ رب العزت نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی کے ذریعے پہنچا دی۔

اگلی صبح یمن کے گورنر کے دونوں کارندے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دربار میں حاضر ہوئے اور بادشاہ کا پیغام پڑھ کر سنایا۔

پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛

؛”آپ کے بادشاہ کو تو قتل کر دیا گیا ہے “۔

دونوں آدمیوں کے چہروں کا رنگ بدل گیا، وہ یکبارگی بولے،” یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں اور آپ کو خیال ہے کہ آپ کیا خبر دے رہے ہیں “۔

شاید آپ کو خیال نہیں کہ آپ کی یہ بات کس قدر گستاخانہ ہے آپ کی ذرا سی بات کا بادشاہ نے اتنا برا منایا تھا اور اگر ہم نے یہ بات اپنے بادشاہ کو بتا دی تو وہ کس قدر غضبناک ہو جائے گا۔

دوسرا آدمی بولا؛

؛” جو آپ کہہ رہے ہیں کیا یہ سب ہم اپنے بادشاہ کو لکھ کر بھیج دیں “۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکرا کر کہا،” ہاں، بالکل بھیج دو “۔

بلکہ یہ بھی لکھ دو کہ” میرا دین اور میری حکومت اس کی سلطنت تک پہنچ کر رہے گی بلکہ اس جگہ تک پہنچ کر رہے گی جہاں تک کسریٰ کی فوج کے گھوڑے نہیں پہنچ سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہہ دینا کہ اب بھی وقت ہے اگر تم مسلمان ہو جائو تو جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ تمہارے پاس ہی رہے گا اور تم ہی وہاں حکومت کرتے رہو گے “۔

جوں جوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم بولتے جا رہے تھے دونوں آدمیوں کی حیرانگی بڑھتی جار ہی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اعتماد دیکھ کر ان کے اوسان خطا ہو گئے اور ان پر یہ حقیقت کھلتی جا رہی تھی کہ آدمی جو کہہ رہا ہے حقیقت معلوم ہوتی ہے۔ وہ دونوں آدمی اجازت لے کر مدینہ سے واپسی کے لئے نکلے ابھی باذان کے علاقے تک پہنچے تھے کہ ان کی طرف ایک قاصد آیا جس کے پاس ایک خط تھا اس میں لکھا تھا۔

؛” شیرویہ نے اپنے باپ کو قتل کر دیا ہے اور اب ایران کا بادشاہ شیرویہ ہے لہٰذا اس کا حکم مانا جائے۔ خط میں نئے بادشاہ نے یہ  بھی لکھا تھا کہ” میرے والد نے تمہیں جس آدمی کو گرفتار کرنے کا حکم دیا تھا اسے کچھ نہ کہا جائے “۔

جب باذان کے علاقے کے رہنے والوں نے یہ سب کچھ دیکھا تو ان پر یہ حقیقت کھل گئی کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے رسول ہیں چنانچہ وہ سب لوگ اسلام قبول کر کے مسلمان ہو گئے۔

ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خط کی گستاخی کرنے والا بادشاہ خسرو اپنے ہی بیٹے کے ہاتھوں ذلت آمیز موت مر گیا اور ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کہا تھا کہ ان تک اسلام پہنچے گا۔ پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ خبر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ۲۳ ہجری کو پوری ہوئی جب اسلامی لشکر فتوحات حاصل کرتا ہوا فارس پہنچا اور فارس کو فتح کر کے آگے بڑھ گیا۔

ماہنامہ ضربِ طیبہ

صفر المظفر ۱۴۲۷ھ

شجاعتوں کے پیکر

یہ سن ۱۴ ہجری کی بات ہے۔ ایرانی سپہ سالار رستم کی قیادت میں بیاسی ہزار کافر فوجیں تھیں۔ جب مجاہدین اسلام، جن کی تعداد سات یا آٹھ ہزار تھی، اس سے نبردآزما ہونے کے لئے ایرانی سرحد پر قادسیہ کے مقام پر جمع ہوئے تو رستم نے مسلمانوں کے سپہ سالار حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے پاس یہ کہہ کر اپنا ایلچی بھیجا کہ تم فوجیوں میں سے کسی کو اپنا نمائندہ ببنا کر میرے پاس بھیجو تا کہ اس سے تبادلہ خیال کروں۔

حضرت سعد بن ابی عقاص رضی اللہ عنہ نے اس کے جواب میں ربعی بن عامر رضی اللہ عنہ کو روانہ کیا جو تیس سالہ جوان تھے اور فقرا ء صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے تھے اور ان سے فرمایا: جائو اور اپنی وضع قطع میں کچھ تبدیلی نہ کرنا، کیونکہ ہم ایسی قوم ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اسلام کے ذریعے عزت و شان بخشی ہے، اگر ہم نے اسلام کو چھوڑ کر کسی اور ذریعے سے عزت و شان طلب کی تو اللہ تعالیٰ ہمیں ذلیل و رسوا کر دے گا۔

حضرت ربعی بن عامر رضی اللہ عنہ اپنے سپہ سالار حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی نصیحت سن کر اپنے دبلے پتلے اور لاغر گھوڑے پر سوار ہوئے اور پھٹا پرانا کپڑا پہنے ہوئے تھے۔ ہاتھ میں نیزہ لے کر روانہ ہوئے ۔جب رستم کو خبر پہنچی کہ مسلمانوں کا نمائندہ اس کی خدمت میں حاضر ہونے والا ہے تو اس نے اپنے ارد گرد حکماء وزراء اور فوجیوں کو اکٹھا کیا۔ وہ تمام صف بندی کر کے تیار ہو گئے تا کہ ان کی یہ ہیئت دیکھ کر مسلمان نمائندہ مرعوب ہو جائے اور اچھی طرح گفتگو نہ کر سکے۔ مسلم نمائندے کی آمد کی خبر سن کر رستم نے اپنی مجلس کو سونے کی تاروں سے کڑھے ہوئے تکیوں اور ریشم کی مسندوں سے سجایا اور قیمتی یاقوت و جواہرات سے مزین تاج پہنے ہوئے سونے کے تخت پر جلوہ افروز ہوا۔

جب ربعی بن عامر رضی اللہ عنہ وہاں پہنچے تو رستم نے اپنے فوجیوں اور وزیروں کو انہیں اندر بلانے کا حکم دیا۔ حضرت ربعی بن عامر رضی اللہ عنہ پرانے کپڑوں میں اپنے چھوتے سے گھوڑے پر سوار داخل ہوئے اور ریشم کی مسندوں کے کناروں کو اپنے گھوڑے کے سموں سے روندتے ہوئے آگے بڑھے، آپ کے جسم پر ہتھیار، زرہ اور خود تھا۔ سپاہیوں نے کہا: اپنے ہتھیار اتار دو۔

ربعی بن عامر رضی اللہ عنہ نے کہا:

؛” میں بغیر بلائے تمہارے پاس نہیں آیا، بلکہ تمہاری دعوت پر یہاں آیا ہوں۔ لہٰذا اگر تم نے مجھے اس حال میں چھوڑ ا تو ٹحیک ورنہ میں واپس جاتا ہوں “۔

یہ سن کر رستم نے اپنے سپاہیوں سے کہا: اسے ایسے ہی آنے دو۔

حضرت ربعی بن عامر رضی اللہ عنہ مسندوں کے اوپر اپنے نیزے پر ٹیک لگاتے ہوئے اور اکثر مسندوں کو نیزے کی نوک سے پھاڑتے ہوئے داخل ہوئے، تا کہ رستم اور اس کے سپاہیوں کے سامنے یہ ظاہر کریں کہ یہ دنیا انتہائی حقیر و ذلیل ہے، اللہ کی نظر میں اس کی کوئی قیمت نہیں ہے اور اس کی حقارت و ذلت کے لئے یہی کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کے ناز و نعم اپنے ایک کافر بندے کے حوالے کر دیئے ہیں۔

ادھر مسلمانوں کے سپہ سالار حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا حال یہ تھا کہ وہ زمین پر بغیر کسی بچھونے کے سو جاتے تھے۔ جب حضرت ربعی بن عامر رضی اللہ عنہ رستم کے سامنے کھڑے ہوئے تو اس نے کہا: بیٹھ جائو۔

ابن عامر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تیرے پاس مہمان بن کر نہیں آیا کہ بیٹھوں ، بلکہ ایک نمائندے کی حیثیت سے آیا ہوں۔ تمہیں جو بات کرنی ہے کرو۔۔۔ رستم نے کہنا چروع کیا۔

اہل عرب، تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ قسم میرے معبود کی، تم لوگوں سے زیادہ ذلیل و خوار قم ہم نے اور نہیں دیکھی، رومیوں کی اپنی ایک تہذیب ہے، اہل فارس کی اپنی ایک تہذیب ہے یونان کی اپنی اور ہندوستانیوں کی اپنی ایک تہذیب ہے۔ مگر تم اہل عرب جھگڑا لو اور ضدی لوگ ہو، بکریوں اور اونٹوں کو ریگستان مین دوڑانے والے ہو، آخر تم لوگ کس نیت سے ہماری سرحد پر آئے ہو؟

ربعی بن عامر رضی اللہ عنہ نے کہا؛

؛” ہاں اے بادشاہ، ہم ویسے ہی تھے جیسا کہ تم نے کہا ہے بلکہ ہم اس سے بھی گئے گزرے تھے۔ ہم جاہل و گ نوار تھے، بتوں کی عبادت کرتے تھے، بکریوں کو پانی پلانے پر جھگڑتے، اپنے قریبی عزیز کو معمولی بات پر قتل کر دیتے تھے، ہمیں کسی نظام اور دستور کا کچھ علم نہ تھا اور نہ ہی ہمارے پاس تہذیب و تمدن نام کی کوئی چیز تھی، “۔

یہ کہہ کر ربعی ب ن عامر رضی اللہ عنہ نے اپنے سر کو تھوڑا سا جھٹکا دیا اور پھر رستم کی طرف مخاطب ہوئے۔ ان کی آواز ب لند ہو گئی اور وہ کہہ رہے تھے۔

؛” لیکن اللہ تعالیٰ نے ہمیں تمہارے پاس اس لئے بھیجا ہے کہ ہم بندوں کو  بندوں کی ب ندگی سے نکال کر اللہ کی بندگی کی طرف لے جائیں، دنیا کی تنگی و پریشانی سے نکال کر آخرت کی وسعت و فراوانی کی طرف لے جائیں اور مختلف مذاہب کے ظلم و جور سے نکال کر اسلام کے عدل و انصاف کی طرف لے جائیں “۔

اگلا دن مسلمانوں کے لئے فتح و نصرت کی نوید تھا۔ سورج کی شعاعیں کفر کی ظلمت کو مٹانے کے لئے روشن ہوئیں ۔ مجاہدین اسلام اور دشمنانِ اسلام آمنے سامنے ہوئے اور دونوں میں جنگ شروع ہو گئی۔  تین دن گھمسان کا رن پڑا۔ ایرانی مسلمانوں کی تلواروں کی جھنکار اور ان کے خنجروں کی چمک کی تاب نہ لا سکے۔ مسلمانوں کو تاریخ ساز فتح نصیب ہوئی۔ فتح کے بعد سعد  بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ایوان کسریٰ میں داخل ہوئے جس نے ایک ہزار سال تک لوگوں پر حکمرانی کی تھی۔ جب مسلمانوں کے اس عظیم کمانڈر نے کسریٰ کے محل میں سونے سے ملمع سازی کا کام دیکھا اور وہاں ہیرے جواہرات، قیمتی پتھر اور موتیوں کے نقش و نگار دیکھے تو اللہ کے اس انعام پر بے اختیار رونے لگے اور قرآن کریم کی ان آیات کی تلاوت کرنے لگے۔

كَمْ تَرَكُوْا مِنْ جَنّٰتٍ وَّعُيُوْنٍ

وَّزُرُوْعٍ وَّمَقَامٍ كَرِيْمٍ

وَّنَعْمَةٍ كَانُوْا فِيْهَا فٰكِهِيْنَ

كَذٰلِكَ وَاَوْرَثْنٰهَا قَوْمًا اٰخَرِيْنَ

فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَاۗءُ وَالْاَرْضُ وَمَا كَانُوْا مُنْظَرِيْنَ

وہ بہت سے باغات اور چشمے چھوڑ گئے۔

اور کھتیاں اور راحت بخش ٹھکانے۔

اور آرام کی چیزیں جن میں عیش کر رہے تھے۔

اسی طرح ہوگیا (١) اور ہم نے ان سب کا وارث دوسری قوم کو بنا دیا

سو ان پر نہ تو آسمان و زمین (١) روئے اور نہ انہیں مہلت ملی۔

انا کفینک المستھزین

قریش مکہ کے سردار پیارے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم، اگر ہمارے باپ دادا کے دین کو اس لئے برا کہتے ہو کہ تم بہت زیادہ دولت کمانا چاہتے ہو تو ہم تمہیں اتنا مال دیں گے کہ تم جیسا امیر پورے عرب میں کوئی نہ ہو گا۔ اگر تم سرداری اور عزت چاہتے ہو تو ہم تمہیں اپنا سردار بنا لیتے ہیں، ہم تمہاری اطاعت کریں گے اور اگر تم سب سے خوبصورت عورت سے شادی کرنا چاہتے ہو تو جس سے تمہاری خواہش ہو اور جس کو تم پسند کرو تمہاری اس سے شادی کروا دیتے ہیں۔ لیکن شرط یہ ہے کہ تم ہمارے دین اور ہمارے خدائوں کو برا بھلا مت کہو۔

نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غور سےان کی ساری باتیں سن کر جواب دیا۔

؛” جو کچھ تم مجھے دینا چاہتے ہو مجھے اس کی کوئی حاجت نہیں ہے۔ مجھے اللہ نے تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے اور مجھ پر کتاب نازل کی گئی  تا کہ میں ایمان لانے والوں کو خوشخبری سنائوں اور انکار کرنے والوں کو ڈرائوں۔ میں نے اللہ کے احکامات تم لوگوں تک پہنچا دیئے اگر قبول کر لو تو دنیا اور آخرت میں آپ کی خوش قسمتی ہے اور اگر مسترد کر دو تو میں صبر کروں گا یہاں تک اللہ میرے اور تمہارے درمیان کوئی فیصلہ فرما دے “۔

اس کے بعد انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مختلف طنز آمیز باتیں کیں جس سے آپ غمگین ہو کر واپس تشریف لے آئے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جانے کے بعد او جہل کہنے لگے” محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے معبودوں کو برا بھلا کہنے سے باز نہیں آ سکتے اور مجھ سے یہ چیز ہر گز برداشت نہیں ہوتی۔ لہٰذا میں عہد کرتا ہوں کہ کل میں ایک بہت بڑا وزنی پتھر لے کر بیٹھوں گا اور جب آپ سجدے میں جائیں گے وہ پتھر آپ کے سر پر ماروں گا تا کہ آپ کا سر کچلا جائے۔ لیکن اس کے بعد تمہاری مرضی ہے۔ خواہ مجھےاس کے قبیلے کے سپرد کر دینا یا بچا لینا “۔

تمام سرداران کفار نے بیک آواز کہا:

؛” خدا کی قسم، ہم تمہاری حفاظت کریں گے اور کسی کے حوالے نہیں کریں گے، تم شوق سے اپنا ارادہ پورا کرو “۔

دوسرے دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم معمول کے مطابق گھر سے نماز پڑھنے کے لئے نکلے۔ ابو جہل بدبخت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے میں ایک وزنی پتھر لے کر بیٹھ گیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ پہنچے تو ابو جہل بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بیت اللہ پہنچ گیا۔ دوسری جانب سرداران قریش بھی آ کر بیٹھ گئے تا کہ آج معاذ اللہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل ہوتے دیکھ سکیں۔

جونہی نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں گئے ابو جہل اٹھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب آنے لگا لیکن ابھی وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک بھی نہیں پہنچا تھا کہ اندھا دھند پیچھے کی طرف بھاگنے لگا، اس کے چہرے کا رنگ سیاہ ہو چکا تھا، خوف سے اس کی آنکھیں باہر آ گئیں اور دونوں ہاتھ پتھر سے چھٹ گئے۔ دور جا کر ابو جہل نے پتھر زمین پر پھینک دیا۔ قریش کے سردار دوڑے دوڑے آئے اور کہنے لگے۔

اے ابو الحکم، کیا بات ہے تم واپس کیوں بھاگ آئے؟

کہنے لگا، جب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کے لئے اس کے قریب پہنچا تو مجھ پر ایک سانڈھ اونٹ نے حملہ کر دیا۔ خدا کی قسم، میں نے اتنا بڑا سر، اتنی موٹی گردن اور اتنے تیز دانت کسی اونٹ کے نہیں دیکھے وہ مجھ کو کھا جانا چاہتا تھا۔

یہ اللہ ربّ العزت کی طرف سے مقرر کردہ فرشتہ تھا اور اگر ابوجہل اور آگے بڑھتا تو وہ اس کو ہلاک کر دیتا۔

ماہنامہ ضرب ِ طیبہ صفر المظفر ۱۴۲۷ھ

Saturday, February 9, 2013

افغانستان، گریشک،جنگجوؤں پرحملہ،کمانڈرہلاک

امارت اسلامیہ کےمجاہدین نے صوبہ ہلمندضلع گریشک میں مقامی جنگجوؤں پرحملہ کیا۔

رپورٹ کےمطابق جمعہ کےروز2013-02-08مقامی وقت کےمطابق شام چاربجے کےلگ بھگ نہرسراج کےعلاقے سرخ شاخ کےمقام پر مجاہدین نے مقامی جگجوؤں کی پیدل دستوں پرحملہ کیا،جولڑائی میں بدل کرایک گھنٹےتک جاری رہی،جس میں جنگجوکمانڈرچمتوماراگیا،جبکہ ایک جنگجو زخمی ہوا۔

افغانستان، میوند،جارح فوجوں کاٹینک بم کاشکار

جارح فوجوں کےبکتربندٹینک پرصوبہ قندہارضلع میوندمیں دھماکہ ہوا۔

موصولہ رپورٹ کےمطابق جمعہ کےروز2013-02-08مقامی وقت کےمطابق سہ پہرایک بجے جوگرم کےعلاقے میں واقع فوجی مرکزسےجارح فوجیں ٹینکوں سمیت نکلےکہ اس دوران لونگین بابازیارت کےقریب ایک بکتربندٹینک بارودی سرنگ کانشانہ بن کرتباہ ہوا۔

ذرائع کےمطابق تباہ ہونےوالے ٹینک میں سوارتمام افرادجانی نقصان سے دوچارہوئے۔

افغانستان، پنجوائی،جنگجوؤں پرحملے،دوہلاک

مقامی جنگجوؤں کوامارت اسلامیہ کےمجاہدین نے صوبہ قندہارضلع پنجوائی میں نشانہ بنایا۔

آمدہ رپورٹ کےمطابق سنیچرکےروز2013-02-09 مقامی وقت کےمطابق صبح آٹھ بجے زنگ آباد کےعلاقے بیلمبی چوک کےقریب نشانہ بازمجاہدنے ایک جنگجو کودرازکوف گن کانشانہ بناکرقتل کردیا۔

نیزجمعہ کےروز2013-02-08مقامی وقت کےمطابق شام پانچ بجےمذکورہ علاقے کےدوبندی کےمقام پرمقامی جنگجوؤں کو مجاہدین کی کمین گاہ کاسامناہوا،جس میں ایک جنگجو ہلاک جبکہ دیگران فرارہونےمیں کامیاب ہوئے۔