ہر مذہب اور مسلک کا ڈھانچہ ایک مخصوص عقیدہ کی بنیاد پر استوار ہوتا ہے۔ اس مذہب کے ماننے والوں کے لئے اس بنیادی عقیدے کو ماننا اور تسلیم کرنا لازمی ہوتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت، آخرت کی ابدی زندگی اور اللہ تعالیٰ کے تمام انبیاء کو ماننا لازم و ملزوم ہے۔ اللہ رب العزت نے وقتا فوقتا معاشرے کی اصلاح کے لئے جو انبیاء و رسل مبعوث کئے۔ سب کی دعوت کی بنیاد توحید تھی اور اس کے بعد انفرادی اور اجتماعی معاملات کی اصلاح، یہ سلسلہ چلتا رہا اور بالآخر اللہ رب العزت نے محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی ٹھہرا کر قرآن مجید ان پہ نازل کیا۔ قرآن مجید نے لوگوں کو توحید کا درس دیا اور مسلمانوں کو ایک ملت بن کے رہنے کا حکم دیا۔ اسی طرح اقبال کے کلام کا ڈھانچہ بھی اسلام کی اجتماعی وحدت پر استوار تھا۔
اقبال، شاعر برائے شاعر نہیں تھے بلکہ ملت اسلامیہ کے عظیم مفکر کے طور پر ساری دنیا کے سامنے ابھرے اور مسلمانوں کی ناگفتہ بہ حالت اور غلامی سے چھٹکارے کے لئے بیدار کرتے اور عظمت رفتہ کو پانے کے لئے نصیحت کرتے رہے۔
اسی طرح اقبال کے مخالفین اعتراض کی شکل میں اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ اقبال صرف شاعر نہیں بلکہ ملت کے عظیم مصلح تھے۔ جیسے اقبال کے ایک ناقد جناب کلیم احمد جو کہ مغرب کے بڑے دلدادہ ہیں اپنی کتاب”اقبال۔ایک مطالعہ “ میں لکھتے ہیں؛
؛”اقبال شاعر تھے اور اچھے شاعر تھے اور وہ زیادہ اچھے شاعر ہو سکتے تھے اور اگر وہ صرف شاعر ہونے پر قناعت کرتے اور پیغمبر بننے پر مصر نہ ہوتے۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ اقبال ہمیں راہِ نجات دکھانے میں اس قدر منہمک ہو جاتے ہیں اور اس کام کو اس قدر اہم سمجھتے ہیں کہ اکثر شاعری کو پس پشت ڈال دیتے ہیں “۔
اقبال کے مخالفین نہیں جانتے کہ وہ تو مسلمانوں کو ملت کی چادر تلے اکٹھا کرنا چاہتے تھے۔
ملت کے ساتھ رابطہ استوار رکھ
پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ
خلافت چونکہ مسلمانوں کی اجتماعیت اور ملت کی نشانی ہوتی ہے۔ خلافت راشدہ کے بعد اموی، عباسی اور عثمانی خلافتوں میں ساری دنیا کے مسلمان ان حکومتوں کو اپنی مرکزی حکومت مانتے تھے اور انہی سے امید لگاتے تھے۔ جب تک خلافت کسی نہ کسی صورت میں قائم رہی تو مسلمانوں کی مرکزیت قائم تھی اور اقبال خلافت اسلامیہ کے زبردست حامی تھے۔
ساری دنیا کے مسلمانوں کا تصور ایک ملت کے طور پر موجود تھا لیکن جب خلافت ختم ہوئی تو اس کے بعد مسلمانوں میں وطن پرستی اور ملت سے دوری کی سازشیں گہری ہوتی چلی گئیں۔ اسی وجہ سے اقبال نے خلافت عثمانیہ ختم ہونے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے اسے ترکوں کی نادانی اور اسلام و مسلمان دشمنوں کی گہری سازش قرار دیا۔
چاک کر دی ترکِ ناداں نے خلافت کی قبا
سادگی اپنوں کی دیکھ اوروں کی عیاری بھی دیکھ
اسی جذبے سے سرشار اقبال نے اپنے بعض دوستوں کو علمی اور ادبی خطوط لکھے اور اپنے زمانے کےبعض مسلمان سربراہوں اور آزادی و حریت کے متوالوں کے نام قصیدے اور قطعات لکھے جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ ان کے دل میں جو اسلام کی محبت تھی، اس کے تائو پیج سے وہ آخری دم تک بے قرار رہے۔
مصر کے بادشاہ فواد، عراق کے بادشاہ فیصل اور سعودی عرب کے سلطان عبدالعزیز ابن سعود کو احساس دلاتے ہیں کہ دھویں کی طرح بے مقصد لڑنے سے فائدہ نہیں، اپنی زمین سے خالد اور عمر پیدا کرو۔
احسان اللہ خان والئی افغانستان کو مشورہ دیتے ہیں کہ اسلامی نظام جاری کرنے میں دیر نہ کرے، اس سے قبل کہ بادِ صبا صحرا کے پھولوں کو چومتے ہوئے گزرے۔
تقسیم ہند کے وقت اقبال مسلمانانِ ہند کے ساتھ دو قومی نظریے کے حامی تھے اور اسی کی بنیاد پر پاکستان عالم وجود میں آیا۔ علامہ اقبال جب بسترِ علالت پر تھے، اس وقت ایک بڑا دلچسپ واقعہ پیش آیا کہ مولانا حسین احمد مدنی جو کہ مسلمانوں کے ہندوستان میں رہنے کے حامی تھے نے دہلی میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کو ہندوستان میں رہنا چاہئے کیونکہ یہ ان کا پیدائشی ملک ہے اور وہ ہندوستانی ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ قومیں اوطان سے بنتی ہیں۔ اقبال کو یہ بات پسند نہ آئی۔ انہوں نے مولانا کی اس سوچ کے خلاف اشعار کا ایک قطعہ لکھ کر اخبارات میں شائع کروا دیا جس کے بعد ایک بڑا علمی، مذہبی اور سیاسی مباحثہ شروع ہوا۔
اس مسئلے پر اقبال کی زندگی اور اس کے بعد بھی بحث چلتی رہی۔ اس سلسلے میں اقبال کے فرزند ڈاکٹر جاوید اقبال نے اپنے والدِ محترم کو تصور میں لے کر خط لکھے جن سے ہمیں اقبال کے ملت کے تصور کو جاننے میں بڑی مدد ملے گی۔ ڈاکٹر جاوید اقبال نے اپنی کتاب” اپنا گریبان چاک “ میں” دوسرا خط “ کے عنوان سے جو خط لکھا، اس سے کچھ اقتباس ہم آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں۔
ڈاکٹر جاوید اقبال لکھتے ہیں؛
والد مکرم السلام علیکم
ہم مسلمانوں کے قومی تشخص کے بارے میں آپ کی جو بحث مولانا حسین احمد مدنی کے ساتھ ہوئی۔ ان کا موقف تھا کہ قومیں اوطان سے بنتی ہیں۔ لہٰذا مسلمانوں کی قومیت ہندی ہے۔ آپ نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ” قوم “ اور” ملت “ کے ایک ہی معنی ہیں۔ مسلم قوم وطن سے نہیں بلکہ” اشتراکِ ایمان “ سے بنتی ہے۔ اپنے نظریہ کی وضاحت کرتے ہوئے آپ نے چند مثالیں بھی دی تھیں یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر اپنے آبائی وطن سے ہجرت نہ کرتے اور کفار کے ساتھ تصفیہ کر لیتے کہ نسل، زبان اور علاقے کے اشتراک کی بنا پر ایک ہوتے ہوئے وہ اپنے خدائوں کی پرستش جاری رکھیں اور مسلمان اپنے خدا کی عبادت کرتے رہیں گے تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پہلےنیشنلسٹ قرار پاتے۔ مدینہ ہجرت کرنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین اور انصار کو اشتراکِ ایمان کی بنیاد پر ایک ملت، امت ،یا قوم بنایا۔
پس ملتِ اسلامیہ اشتراک وطن سے نہیں بلکہ اشتراکِ ایمان سے بنتی ہے “۔
ایک اور جگہ ڈاکٹر جاوید اقبال لکھتے ہیں؛
؛”آپ نے اشتراکِ ایمان کی بنیاد پر مسلم قومیت کا تصور پیش کر کے برصغیر میں” دو قومی نظریہ “ کی حقیقت کو تقویت بخشی۔ چنانچہ مسلم قوم وجود میں آئی اور پھر اس قوم کے لئے وطن بصورت پاکستان حاصل کر لیا گیا۔ بلکہ کشمیر کو پاکستان کا حصہ سمجھنے میں بھی یہی جذبہ کام کر رہا ہے۔ پاکستان ایک اسلامی نظریاتی ریاست کے طور پہ سامنے آیا اور اپنی اسی نظریاتی اساس کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے پاکستان نے اقوام متحدہ میں مسلم امہ کی کوکھ سے نکلی ہوئی کئی قومی ریاستوں کی نوآبادیاتی طاقتوں سے آزادی کی خاطر تگ و دو میں حصہ لیا۔ فلسطین کی آزادی اور کشمیر کے مسئلہ کے حل کے لئے کوششیں جاری رکھیں۔ افغانستان سے غیر مسلم حملہ آوروں کو نکالنے کے لیے پاکستان نے افغان مجاہدین کے شانہ بشانہ حصہ لیا۔ بعد ازاں پاکستان ہی کی مدد سے وہاں اسلامی حکومت قائم ہوئی اور اسے تسلیم کیا گیا۔ “۔
ملت بیضا کی بنیاد لا الہٰ کو قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں؛
ملت بیضا تن و جاں لاالہٰ
ساز سارا پردہ گراں لاالہٰ
لاالہٰ سرمایئہ اسرارِ ما
رشتہ اس شیرازہ افکارِ ما
ترجمہ؛” ملتِ بیضا [ اسلام ] بدن ہے اور توحید اس کے اندر روح ہے۔لاالہٰ کے ساز سے ہمارے نغموں میں ہم آہنگی موجود ہے۔ لاالہٰ ہمارے روحانی اسرار کا سرمایہ ہے۔ اس سے ہمارے افکار کی شیرازہ بندی ہے “۔
اقبال نے اپنے اعلیٰ افکار کو اپنی شاعری کے ذریعے پھیلایا۔ وہ ساری دنیا کے مسلم خطوں، علاقوں کو اپنی شاعری کے اندر تذکرہ کر کے وحدت و یگانگت کا پیغام دیتے ہیں۔ جیسے نظم صقلیہ میں وہ بغداد اور غرناطہ کے علاوہ وہلی کی تباہی و بربادی پر بھی ماتم کرتے ہیں۔
نالہ کس شیراز کا بلبل ہوا بغداد پر
داغ رویا خون کے آنسو جہاں آباد پر
آسمان نے دولت غرناطہ جب برباد کی
ابن بدروں کے دل ناشاد نے فریاد کی
غم نصیب اقبال کو بخشا گیا ماتم تیرا
چن لیا تقدیر نے وہ دل کہ تھا محرم تیرا
اسی طرح بانگ دراء کی نظم”بلاد اسلامیہ “ میں ساری دنیا کے مسلمانوں کو ایک ملت کا تصور دیتے ہوئے دنیا کے اسلامی شہروں کا تذکرہ کرتے ہیں۔ مثلا دلی، بغداد، قرطبہ، قسطنطینیہ اور خواب گاہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم یعنی مدینہ منورہ۔
جہاں میں اہل ایمان صورت خورشید جیتے ہیں
اِدھر ڈوبے ادھر نکلے ، اُدھر ڈوبے اِدھر نکلے
جس طرح اسلام لازوال ہے، اسی طرح ملت اسلامیہ لافانی ہے۔ دونوں میں ایک قانونِ قدرت ہے اور دوسرا مظہر فطرت۔ جیسے آفتاب عالم تاب جو ہمیشہ ہی چمکتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کا غروب بھی طلوع ہی کی ایک شکل ہے۔ ایک افق پر ڈوبتا ہے تو دوسرے پر نکلتا ہے۔
کچھ لوگ اقبال کے وطنیت کے شعر پیش کر کے اقبال کے تصور ملت کو کیا سے کیا بنا دیتے ہیں۔ غور کرنا چاہئے کہ جو شخص بار بار ایک ہی پیغام کی تکرار کرتا ہو، اس کے یہاں تضاد نہیں ہو گا، اور اگر تضاد ہے تو یقینا وہ ایک نئی خاص اور اہم بات ہے۔ مثلا یہی کہ اقبال نے اپنے ابتدائی دور میں بعض وقت وطنیت کا اظہار کیا تھا۔ مگر اس کے بعد وہ آفاقیت اور اسلامیت کا پرچار کرنے لگے۔ اس سے قطع نظر کہ اسلامیت بہر حال ایک عالمی بین الاقوامی اور آفاقی اصول ہے جبکہ وطنیت بالکل مقامی علاقائی اور محدود قسم کا تصور ہے۔ یہ بات سرے سے ہی حقیقت کے خلاف اور لغو ہے۔
اقبال اپنی شاعری کے کسی بھی دور میں وطن کے پجاری نہیں رہے اور بعد میں وطن کے مخالف ہو گئے۔ واقعہ یہ ہے کہ وہ وطن دوست ہمیشہ رہے۔ شروع سے آخر تک اور وطن پرست کبھی نہ تھے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ فطری طور پر ان کے ذہن کی وسعتیں بڑھتی گئیں اور وہ قرآن سے راہنمائی حاصل کر کے روز بروز آفاقیت کی طرف مائل ہوتے گئے۔
اقبال یہ ضروری سمجھتے تھے کہ ہندوستان اور دوسرے ایشیائی ممالک اور افریقی ممالک برطانوی اور یورپی سامراج سے آزاد ہوں اور اس کے لیے ایک فکری انقلاب ضروری سمجھتے تھے، وہ یہ تھا کہ دنیا مغربی مادیت کے ہاتھوں برباد ہو چکی اور یورپی و کلیسائی اخلاق نے انسانیات کو روبہ زوال کر دیا ہے۔ لہٰذا سرمایہ داری و اشتراکیت کے بعد دونوں کی داشتہ جمہوریت سے مختلف ایک ایسا نظریہ درکار ہے جو حقیقی روحانیت کو پوری دنیا میں ابھار کر مادیت کو صحیح رخ پہ لگا دے اور آج کے انسان کو ایسے اخلاق سے آراستہ کرے جو اسے جدید ترین آلات و وسائل کا بہتر استعمال سکھا سکیں اور ضروری ہے کہ یہ نظریہ صرف روحانیت اور اخلاقیات کا کوئی صوفیانہ تصور نہ ہو بلکہ ایک کلی، جامع، ٹھوس اور عمل ضابطہ فکر اور نظام حیات ہو جو کائنات و حیات اور فکر و عمل کی تمام جہتوں کے لئے بہترین عقائد اور صالح ترین اعمال کی ضمانت دے سکے۔
یہ نظریہ اقبال کے خیال میں صرف اسلام ہے، کسی فرقے کے مذہب کے طور پر نہیں بلکہ پوری انسانیت کے مذہب کے طور پر نہیں بلکہ پوری انسانیت کے نظریے اور نظام، فلفسہ حیات اور طریق زندگی کے طور پر ہے۔ اسی لیے اقبال کے توحید اور اسی کے تحت وحدیت پر بہت زور دیا۔ اب اقبال کا مطالعہ بجا طور پر یہ تھا کہ اسلامی توحید کا آفتاب دورِ حاضر کی ظلمتوں میں مشرق سے ہی طلوع ہو سکتا ہے۔ اس کے لیے مغربی افق بالکل تاریک ہو چکی ہے۔ بلکہ وہی تاریکی کا منبع ہے۔
اقبال نے ضرب کلیم اور بانگ درا کے جن اشعار میں ہندوستان سے محبت کا اظہار کیا ہے، وہیں اسی خاک کو خاور کی امیدوں کا مرکز قرار دیا ہے۔ اقبال کے وطن پرست ہونے اور وطن پرست نہ ہونے کا حسین منظر آپ یہاں دیکھ سکتے ہیں۔ ایک فکری مرتب اور متوازن نقطئہ نظر ہے اور اس کا ہی اظہار اقبال کے ابتدائی دور کے ترانہ ہندی اور ترانہ ملی میں ہوا تھا۔
غور کریں تو؛
سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا
اور
چین و عرب ہمارا ہندوستان ہمارا
کے درمیان کوئی تضاد نہیں ہے۔ اس لیے کہ؛
مسلم ہیں ہم وطن ہیں سارا جہاں ہمارا
ایک طرف ترانہ ہندی میں کہا؛
اے آبِ رودِ گنگا وہ دن ہیں یاد تجھ کو
اترا تیرے کنارے جب کارواں ہمارا
دوسری طرف ترانہ ملی میں کہا؛
اے موج دجلہ تو بھی پہچانتی ہے ہم کو
اب تک ہے ترا دریا فسانہ خواب ہمارا
بات یہ ہے کہ ہر ملک ملک ماست کہ ملک خدائے ماست، موج اسلام ہر جگہ بلا امتیاز رواں ہے۔
اس کی زمین بے حدود ، اس کا افق بے تغور؟
اس کے سمند کی طرح موج ، دجلہ و دنیوب و نیل
؛[مسجدِ قرطبہ، بال جبریل]۔
اس آفاقی منصوبہ انقلاب میں اقبال کے نزدیک مشرق اور اس میں ملت اسلامیہ کی حیثیت و اہمیت اور مغو ویت یہ ہے؛
ربط و ضبط ملت بیضا ہے مشرقی کی نجات
ایشیا والے ہیں اس نقطے سے اب تک بےخبر
اقبال وحدت کے علمبردار تھے اور ان کے نزدیک اسلامی توحید اس آفاقی نصب العین کے حصول کا واحد ذریعہ تھی۔
اس دور میں اقوام کی محبت بھی ہوتی ہے عام
پوشیدہ نگاہوں سے رہی وحدت آدم
تفریق ملت حکمت افرنگ کا مقصود
اسلام کا مقصود فقط ملت آدم
مکے نے دیا خاک جنیوا کو یہ پیغام
جمعیت اقوام یا جمعیت آدم
؛[مکہ اور جنیوا۔ ضرب کلیم]۔
یہاں پر صرف چند حوالوں اور اشاروں پر ہی گزارہ کیا گیا ہے لیکن یہ بات طے ہے کہ اقبال توحید اور ایمان کی بنیاد پر مسلمانوں کو اکٹھا دیکھنا چاہتے تھے اور ان کے کلام میں اس بات پر تکرار پایا جاتا ہے۔ زندگی میں تو وہ یہ نصیحت کرتے ہی تھے مگر دنیا سے رخصتی کے بعد بھی ان کی یہ تلقین جاری ہے۔
نہ افغانیم و نہ ترک و تاتاریم
چمن نرادیم و ازیک شاخساریم
تمیزِ رنگ و بو بر ماحرام است
کہ ماپروردہ یک نو بہاریم
ترجمہ:” ہم نہ افغان ہیں نہ ترک و تاتار۔ ہم تو اسلام کے چمن میں پیدا ہوئے ہیں اور ہمارا اصل ایک ہی شاخ اسلام سے ہے۔ اس لیے ہم پر رنگ و نسل کے امتیازات حرام ہیں “۔
تحریر؛ مسعود احمد غازی
ماہنامہ اخبارِ طلباء